شائقین کیلیے خوشخبری! ڈی ویلیئرز کی ریٹائرمنٹ کے بعد کرکٹ میں واپسی
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
جوہانسبرگ(نیوز ڈیسک)لیجنڈری بلے باز اے بی ڈی ویلیئرز نے ریٹائرمنٹ کے چار سال بعد کرکٹ میں واپسی کا اعلان کر دیا اور اب وہ کھیلنے کے لیے تیار ہیں۔
اے بی ڈی ویلیئرز بلاشبہ کرکٹ کھیلنے والے سب سے مشہور اور افسانوی بلے بازوں میں سے ایک ہیں۔ جنوبی افریقی اسٹار نے نومبر 2021 میں تمام طرز کی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ کرکٹ پر اپنے ماہرانہ رائے آزادنہ طور پر دیتے آرہے ہیں اور اپنے سوشل میڈیا چینلز پر ایک کرکٹ شو کی کامیابی سے میزبانی بھی کرتے ہیں۔
اب شائقین کے لیے خوشی کی خبر ہے کہ ڈی ویلیئرز میدان میں واپس آنے والے ہیں اور انہوں نے باضابطہ طور پر کرکٹ میں واپسی کا اعلان کر دیا ہے۔
ڈی ویلیئرز باضابطہ طور پر کرکٹ ایکشن میں واپسی کے لیے تیار ہیں کیونکہ وہ ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز (WCL) کے آئندہ دوسرے ایڈیشن میں گیم چینجرز جنوبی افریقہ کے کپتان ہوں گے۔
ٹورنامنٹ میں بین الاقوامی ٹیمیں شامل ہوں گی جو ریٹائرڈ اور نان کنٹریکٹڈ کرکٹرز پر مشتمل ہوں گی۔
مزیدپڑھیں:ایک بیوی والے مرد کیاکام کرتے ہیں ؟اقرارالحسن کی اہلیہ فرح اقرار نے اندر کی بات بتادی
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میں واپسی
پڑھیں:
حکومت نے دہری شہریت والوں کو بڑی خوشخبری سنا دی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے پاکستان سیٹیزن شپ ایکٹ ترمیمی بل 2024 کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کا مقصد ان پاکستانیوں کو دوبارہ شہریت دینا ہے جنہیں غیر ممالک میں شہریت حاصل کرنے کی صورت میں پاکستان کی شہریت چھوڑنی پڑی تھی۔
قائمہ کمیٹی میں بل پر بحث کے دوران وزارت قانون کے نمائندے نے بتایا کہ ماضی میں کچھ ممالک میں پاکستانیوں کو مقامی شہریت تو دی جاتی تھی مگر اس کے بدلے انہیں پاکستان کی شہریت ترک کرنا پڑتی تھی۔ اب حکومت ایسے افراد کی پاکستانی شہریت بحال کرنے کے لیے ترمیم لا رہی ہے تاکہ وہ اپنی اصل شہریت سے محروم نہ ہوں۔
اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹس مصطفیٰ جمال قاضی نے بتایا کہ پہلے پاکستان کے 22 ممالک کے ساتھ دوہری شہریت کے معاہدے نہیں تھے، تاہم اب ان ممالک کے ساتھ معاہدے ہو چکے ہیں، جس کے بعد پاکستانی شہریوں کو اب دہری شہریت حاصل کرتے وقت اپنی پاکستانی شہریت ترک نہیں کرنی پڑے گی۔
چیئرمین کمیٹی نے بل کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی اعتراض نہیں، اور ایسے تمام پاکستانیوں کو اپنی شہریت واپس ملنی چاہیے۔وزیر مملکت برائے داخلہ نے کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تمام صوبے اسلحہ لائسنس جاری کر رہے ہیں، جبکہ اسلام آباد میں ماضی میں بہت زیادہ لائسنس جاری کیے گئے تھے جن میں بعض غیر موزوں معاملات بھی سامنے آئے۔
طلال چوہدری نے اس موقع پر بتایا کہ اب اراکین قومی اسمبلی کو ایک اسلحہ لائسنس وزیر اعظم کی منظوری سے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ممنوعہ بور کے لائسنس کھول دیے گئے ہیں مگر وہ محدود تعداد میں جاری کیے جائیں گے۔ طلال چوہدری نے واضح کیا کہ اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے تجویز کردہ افراد کو ممنوعہ بور کے لائسنس محدود پیمانے پر ہی دیے جائیں گے تاکہ اس نظام میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔