سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک پولیس والا موٹر سائیکل سوار کو چلتی ہوئی موٹر سائیکل سے نیچے کھینچ لیتا ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہےکہ موٹر سائیکل پر سوار بزرگ شخص نیچے گر جاتا ہے اور پولیس والا ان پر تشدد کرتا ہے۔

ملتان میں بزرگ شہری سے پولیس کا سلوک !!!
اہل کار کو معطل کردیاہے،ملتان پولیس pic.

twitter.com/zNpehKApyJ

— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 30, 2025

ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے اس پر مختلف تبصرے کیے گئے۔ صحافی حامد میر نے کہا کہ اس پولیس والے کے لیے شرم بہت چھوٹا لفظ ہے۔

Shame is a very small word for this policeman with a wireless set in his hand. pic.twitter.com/T6cAoydvfI

— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) January 31, 2025

ایک صارف نے لکھا کہ وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران یا قانون کی خلاف ورزی پر بزرگ شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ افسوسناک ہے، بزرگ شہری کو روک کر بھی پوچھا جا سکتا تھا۔

وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران یا قانون کی خلاف ورزی پر بزرگ شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ افسوسناک ہے، روک کر بھی پوچھا جا سکتا تھا ۔۔ pic.twitter.com/ySgGVaITTR

— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) January 30, 2025

احتشام علی عباسی لکھتے ہیں کہ اس پولیس اہلکار کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر 10 کلومیٹر تک گھسیٹا جائے، پھر اس کی فیملی کے سامنے اس کو لاتیں مکے اور تھپڑ مارے جائیں اور نوکری سے فارغ کرکے کسی پاگل خانے میں بند کر دیا جائے۔

اس پولیس اہلکار کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر 10 کلومیٹر تک گھسیٹا جائے پھر اس کی فیملی کے سامنے اس کو لاتیں مکے اور تھپے مارے جائیں ،،،نوکری سے فارغ کر کے کسی پاگل خانے میں بند کر دیا جائے- https://t.co/x1GC2vjUj2

— Ehtesham Ali Abbasi (@ehtashamabbasi) January 31, 2025

پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما زرتاج گل نے لکھا کہ بس یہی چہرہ رہ گیا ہے میرے پنجاب کا۔ یہ بزرگ شہری صرف سرکاری پروٹوکول کی زد میں آگیا۔ اس کا جرم اتنا بڑا ہو گیا اور اس کے بعد آپ اس کا انجام دیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوچتے ہیں کہ یہ معزز بزرگ شخص کسی کا والد ہوگا کسی کا شوہر ہوگا کسی کا بھائی ہوگا، اور ابھی ویڈیو دیکھ کے ان کو کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی کہ ان کے معزز والد سے ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بس اب یہی ہولناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ہمیں پنجاب میں یہاں کسی کی بھی کوئی خودداری کوئی عزت محفوظ نہیں۔

بس یہی چہرہ رہ گیا ہے میرے پنجاب کا۔۔
یہ بزرگ شہری صرف سرکاری پروٹوکال کی زد میں اگیا۔ اس کا جرم اتنا بڑا ہو گیا اور اس کے بعد اپ اس کا انجام دیکھیں پنجاب پولیس کے ہاتھوں اتنا ظلم ۔ سوچتے ہیں کہ یہ معزز بزرگ شخص کسی کا والد ہوگا کسی کا شوہر ہوگا کسی کا بھائی ہوگا اور ابھی ویڈیو… pic.twitter.com/XQlKUMdomZ

— Zartaj Gul Wazir (@zartajgulwazir) January 30, 2025

عادل نظامی نے لکھا کہ ملتان پولیس کے سب انسپکٹر کی فرعونیت ملاحظہ کریں۔ مانا کے ٹیموں کا روٹ لگا ہوا تھا لیکن اس بزرگ شہری کو آرام سے روک کر بھی سائیڈ پر کیا جا سکتا تھا۔

ملتان پولیس کے سب انسپکٹر کی فرعونیت ملاحظہ کریں۔ مانا کے ٹیموں کا روٹ لگا ہوا تھا لیکن اس بزرگ شہری کو آرام سے روک کر بھی سائیڈ پر کیا جا سکتا تھا لیکن ???? pic.twitter.com/65uFdUXha2

— Adil Nizami (@AdilNizami10) January 30, 2025

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ملتان میں معمر شہری پر پولیس افسر کے تشدد کے واقعہ کا نوٹس لے لیا، اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے، تشدد کی فوٹیج دیکھ کر نہایت تکلیف ہوئی۔ پولیس کو شہریوں کے ساتھ عزت واحترام کا رویہ اپنانا چاہیے انہیں تشدد کا کوئی حق نہیں۔ مریم نواز نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شہری پر تشدد کرنے والے پولیس افسر کو معطل کر دیا اور اس کی گرفتاری کا بھی حکم دے دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پولیس کی عزت ہوتی ہے تو کیا عام آدمی کی عزت نہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اپنے ہر شہری کی عزت نفس کا احساس ہے۔ کسی کو عام آدمی پر ظلم وزیادتی کی اجازت نہیں دوں گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مریم نواز موٹر سائیکل جا سکتا تھا ہوگا کسی کا روک کر بھی مریم نواز کے ساتھ کہا کہ

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، فیڈرل بی انڈسٹریل ایریا میں پولیس مقابلہ، 2 زخمی ڈاکو گرفتار، چھینی گئی موٹر سائیکل برآمد
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار