پنجاب پولیس کا موٹر سائیکل پر سوار بزرگ شہری پر تشدد، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 31st, January 2025 GMT
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک پولیس والا موٹر سائیکل سوار کو چلتی ہوئی موٹر سائیکل سے نیچے کھینچ لیتا ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہےکہ موٹر سائیکل پر سوار بزرگ شخص نیچے گر جاتا ہے اور پولیس والا ان پر تشدد کرتا ہے۔
ملتان میں بزرگ شہری سے پولیس کا سلوک !!!
اہل کار کو معطل کردیاہے،ملتان پولیس pic.
— Ghazanfar Abbas (@ghazanfarabbass) January 30, 2025
ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین کی جانب سے اس پر مختلف تبصرے کیے گئے۔ صحافی حامد میر نے کہا کہ اس پولیس والے کے لیے شرم بہت چھوٹا لفظ ہے۔
Shame is a very small word for this policeman with a wireless set in his hand. pic.twitter.com/T6cAoydvfI
— Hamid Mir حامد میر (@HamidMirPAK) January 31, 2025
ایک صارف نے لکھا کہ وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران یا قانون کی خلاف ورزی پر بزرگ شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ افسوسناک ہے، بزرگ شہری کو روک کر بھی پوچھا جا سکتا تھا۔
وی وی آئی پی موومنٹ کے دوران یا قانون کی خلاف ورزی پر بزرگ شہریوں کے ساتھ ایسا رویہ افسوسناک ہے، روک کر بھی پوچھا جا سکتا تھا ۔۔ pic.twitter.com/ySgGVaITTR
— Hussain Ahmed Ch (@HussainAhmedCh8) January 30, 2025
احتشام علی عباسی لکھتے ہیں کہ اس پولیس اہلکار کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر 10 کلومیٹر تک گھسیٹا جائے، پھر اس کی فیملی کے سامنے اس کو لاتیں مکے اور تھپڑ مارے جائیں اور نوکری سے فارغ کرکے کسی پاگل خانے میں بند کر دیا جائے۔
اس پولیس اہلکار کو گاڑی کے ساتھ باندھ کر 10 کلومیٹر تک گھسیٹا جائے پھر اس کی فیملی کے سامنے اس کو لاتیں مکے اور تھپے مارے جائیں ،،،نوکری سے فارغ کر کے کسی پاگل خانے میں بند کر دیا جائے- https://t.co/x1GC2vjUj2
— Ehtesham Ali Abbasi (@ehtashamabbasi) January 31, 2025
پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما زرتاج گل نے لکھا کہ بس یہی چہرہ رہ گیا ہے میرے پنجاب کا۔ یہ بزرگ شہری صرف سرکاری پروٹوکول کی زد میں آگیا۔ اس کا جرم اتنا بڑا ہو گیا اور اس کے بعد آپ اس کا انجام دیکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوچتے ہیں کہ یہ معزز بزرگ شخص کسی کا والد ہوگا کسی کا شوہر ہوگا کسی کا بھائی ہوگا، اور ابھی ویڈیو دیکھ کے ان کو کتنی تکلیف ہو رہی ہوگی کہ ان کے معزز والد سے ایسا سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بس اب یہی ہولناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ہمیں پنجاب میں یہاں کسی کی بھی کوئی خودداری کوئی عزت محفوظ نہیں۔
بس یہی چہرہ رہ گیا ہے میرے پنجاب کا۔۔
یہ بزرگ شہری صرف سرکاری پروٹوکال کی زد میں اگیا۔ اس کا جرم اتنا بڑا ہو گیا اور اس کے بعد اپ اس کا انجام دیکھیں پنجاب پولیس کے ہاتھوں اتنا ظلم ۔ سوچتے ہیں کہ یہ معزز بزرگ شخص کسی کا والد ہوگا کسی کا شوہر ہوگا کسی کا بھائی ہوگا اور ابھی ویڈیو… pic.twitter.com/XQlKUMdomZ
— Zartaj Gul Wazir (@zartajgulwazir) January 30, 2025
عادل نظامی نے لکھا کہ ملتان پولیس کے سب انسپکٹر کی فرعونیت ملاحظہ کریں۔ مانا کے ٹیموں کا روٹ لگا ہوا تھا لیکن اس بزرگ شہری کو آرام سے روک کر بھی سائیڈ پر کیا جا سکتا تھا۔
ملتان پولیس کے سب انسپکٹر کی فرعونیت ملاحظہ کریں۔ مانا کے ٹیموں کا روٹ لگا ہوا تھا لیکن اس بزرگ شہری کو آرام سے روک کر بھی سائیڈ پر کیا جا سکتا تھا لیکن ???? pic.twitter.com/65uFdUXha2
— Adil Nizami (@AdilNizami10) January 30, 2025
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ملتان میں معمر شہری پر پولیس افسر کے تشدد کے واقعہ کا نوٹس لے لیا، اور آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کر لی۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ افسوسناک ہے، تشدد کی فوٹیج دیکھ کر نہایت تکلیف ہوئی۔ پولیس کو شہریوں کے ساتھ عزت واحترام کا رویہ اپنانا چاہیے انہیں تشدد کا کوئی حق نہیں۔ مریم نواز نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شہری پر تشدد کرنے والے پولیس افسر کو معطل کر دیا اور اس کی گرفتاری کا بھی حکم دے دیا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید کہا کہ پولیس کی عزت ہوتی ہے تو کیا عام آدمی کی عزت نہیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے اپنے ہر شہری کی عزت نفس کا احساس ہے۔ کسی کو عام آدمی پر ظلم وزیادتی کی اجازت نہیں دوں گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مریم نواز موٹر سائیکل جا سکتا تھا ہوگا کسی کا روک کر بھی مریم نواز کے ساتھ کہا کہ
پڑھیں:
فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
سماجی رابطے کے پلیٹ فارمز ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اور فیس بک پر متعدد افراد اور سرگرم بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس 30 مئی 2026 سے ایک ویڈیو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل (کاؤنٹر انٹیلیجنس) میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
تاہم، حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے جس میں ایک بھارتی شہری تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں پٹ رہا ہے۔
یہ دعویٰ کیسے پھیلا؟
30 مئی کو ایک ایسا ایکس اکاؤنٹ (جو اپنی سابقہ پوسٹس کی بنیاد پر ریاست مخالف معلوم ہوتا ہے) نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ اس میں ایک پاکستانی فوجی افسر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے گروہ نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
پوسٹ کے کیپشن میں لکھا تھا:
’ایک پاکستانی آرمی کرنل کو تھائی لیڈی بوائز نے اس وقت بری طرح مارا پیٹا جب وہ اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ سیاحت پر آیا تھا اور مقامی علاقے کی ایک کم عمر لڑکی سے ملاقات کا بندوبست کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔‘
اس پوسٹ کو42 ہزار 900 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی طرح 31 مئی کو ایک بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے اس لیے مارا پیٹا کیونکہ انہوں نے طے شدہ رقم ادا نہیں کی۔‘
اس پوسٹ کو 14 لاکھ ویوز حاصل ہوئے۔
ایک اور بھارت نواز اکاؤنٹ نے یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا:
’پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر (ڈَرٹی ہیری)، ڈی جی آئی ایس آئی (کاؤنٹر انٹیلیجنس)، کو فوکیٹ میں کسی تلخ بحث کے بعد تھائی لیڈی بوائز نے بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا۔‘
اس پوسٹ کو 5 لاکھ 75 ہزار 800 مرتبہ دیکھا گیا۔
اسی دوران ایک اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹ، جو عموماً پاکستان مخالف مواد شیئر کرتا ہے، نے 31 مئی کو ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا:
’اطلاعات کے مطابق پاکستان آرمی کے میجر جنرل محمد فیصل نصیر کو تھائی لیڈی بوائز نے وعدہ کی گئی رقم ادا نہ کرنے پر مارا پیٹا۔ اس سے قبل 2025 میں بھی ان کی اپنی کم عمر کزن کے ساتھ ایک ویڈیو وائرل ہوئی تھی۔‘
اس پوسٹ کو 1 لاکھ 40 ہزار ویوز ملے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر صارفین (جن میں اکثریت بھارتی معلوم ہوتی ہے) نے بھی اسی نوعیت کے دعووں کے ساتھ یہ ویڈیو شیئر کی، جن کی مجموعی ویوز 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد رہے۔
View this post on Instagramحقائق کی جانچ کیسے کی گئی؟
اس دعوے کی غیر معمولی مقبولیت اور عوامی دلچسپی کے باعث اس کی حقیقت جانچنے کے لیے فیکٹ چیک کا آغاز کیا گیا۔
ویڈیو کے اصل ماخذ تک پہنچنے کے لیے گوگل ریورس امیج سرچ کی گئی، جس کے نتیجے میں یہی ویڈیو 3 جنوری 2026 کی ایک ایکس پوسٹ میں ملی، جسے ایک بھارتی صارف نے شیئر کیا تھا۔
اس پوسٹ کے کیپشن میں لکھا گیا تھا:
’تھائی لینڈ میں ایک بھارتی شہری کی پٹائی۔ 52 سالہ بھارتی شخص راج جسوجا نے مبینہ طور پر 'سروسز' کی ادائیگی سے انکار کیا، جس پر خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ رپورٹس کے مطابق اسے علاج کے لیے پٹایا میموریل اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔‘
"An Indian thrashed in Thailand." ????
A 52-year-old Indian man, Raj Jasuja, who refused to pay for "services," was beaten by a group of transwomen in Thailand.
As per reports, he has been hospitalized at Pattaya Memorial Hospital for treatment. pic.twitter.com/FIcR6iYdaF
دعوے کی مزید تصدیق کے لیے کی گئی کی ورڈز پر مبنی سرچ کے دوران 4 جنوری 2026 کو شائع ہونے والی ایک خبر سامنے آئی، جسے ہندوستان ٹائمز نے شائع کیا تھا اور جس میں یہی ویڈیو شامل تھی۔
خبر کی سرخی تھی:
’آن کیمرا: تھائی لینڈ میں 'سروس' کی ادائیگی سے انکار پر بھارتی شہری کو خواجہ سراؤں نے تشدد کا نشانہ بنا دیا‘
رپورٹ کے مطابق 52 سالہ بھارتی شہری راج جسوجا کو تھائی لینڈ کے شہر پٹایا میں خواجہ سراؤں کے ایک گروہ نے اس وقت مارا پیٹا جب اس نے مبینہ طور پر جنسی خدمات کے عوض طلب کی گئی رقم ادا کرنے سے انکار کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر وہاں سے نکلنے کی کوشش کی۔
ریسکیو اہلکاروں نے راج جسوجا کو چہرے اور سر کے پچھلے حصے پر زخموں کی حالت میں پایا۔ موقع پر اسے ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی، جس کے بعد مزید علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
جنوری 2026 میں شائع ہونے والی متعدد دیگر معروف بھارتی میڈیا رپورٹس، جن میں The Times of India، The Indian ExpressاورIndia Today شامل ہیں، نے بھی اسی واقعے کو تقریباً یکساں تصاویر اور تفصیلات کے ساتھ رپورٹ کیا۔
فیکٹ چیک کا نتیجہ: خبر غلط قرار
یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو میں پاکستان آرمی کے میجر جنرل فیصل نصیر کو تھائی لینڈ میں خواجہ سراؤں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنتے دکھایا گیا ہے، جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ویڈیو جنوری 2026 کی ہے اور اس میں ایک بھارتی شہری کو تھائی خواجہ سراؤں کے ہاتھوں مبینہ طور پر ایسکارٹ سروس کی ادائیگی سے متعلق تنازع کے بعد تشدد کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
لہٰذا سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا یہ دعویٰ حقائق کے منافی ہے اور ویڈیو کا میجر جنرل فیصل نصیر یا پاکستانی فوج سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔
یہ فیکٹ چیک اصل میں iVerify Pakistan کی جانب سے شائع کیا گیا تھا، جو Centre for Excellence in Journalism (CEJ-IBA) اور United Nations Development Programme (UNDP) کا مشترکہ منصوبہ ہے۔