Nai Baat:
2026-07-24@01:28:30 GMT

وہاڑی کی ترقی کی امید … محترمہ تہمینہ دو لتانہ

اشاعت کی تاریخ: 1st, February 2025 GMT

وہاڑی کی ترقی کی امید … محترمہ تہمینہ دو لتانہ

ہمارے مردانہ تسلط والے معاشرہ میں خواتین کو وہ مقام و منزلت حاصل نہ ہے جو کہ مغربی معاشرہ اور ساری دنیا میں خواتین کو حاصل ہے جبکہ اسلام میں خواتین کو مساوی حقوق اور قدرومنزلت دی جاتی ہے ۔ اس معاشرتی ناانصافی کے باوجود بعض خواتین نے اپنے اعلی انسانی خصائل اور آہنی عزم سے مختلف شعبہ جات میں اپنی خاصیت کو منوایا ہے قابل ذکر خواتین میں فاطمہ جناح، بینظیر ، محترمہ کلثوم نواز اور موجودہ دور میں محترمہ مریم نواز شریف ایک روشن مثال ہیں ۔ آج میری مخاطب مسلم لیگ ن کی ایک رہنما محترمہ تہمینہ دو لتانہ ہے جن کہ والد گرامی محمد ریاض دولتانہ وہاڑی کی ایک با اثر سیاسی شخصیت تھے اور انکے حقیقی انکل میاں ممتاز دولتانہ قومی سطح کہ سیاسی قائد اور وزیراعلی پنجاب ون یونٹ پاکستان رہے ۔ محترمہ تہمینہ دولتانہ نے کینرڈ کالج سے گریجویشن مکمل کرنے کے بعد تاریخ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی اور اس کے بعد انہوں نے دو پیشہ ور کورسز مکمل کیے ہیں ، ایک 2004-2005 ء میں حکومت پاکستان کے ذریعہ این ڈی سی ہے اور امریکہ کے محکمہ برائے ریاستی محکمہ سے پولیٹیکل سائنس میں دوسرا کورس۔۔ اس دور کے دوران انہوں نے دو سیاسی عہدے پر فائز تھے کیونکہ مسلم لیگ ن کے مرکزی نائب صدر میں سے ایک کے طور پر بھی اس دوران اے آر ڈی کے نائب صدر کی حیثیت سے جاری رہے۔ وہ 1996-1999 ء میں وزیر مملکت برائے خواتین کی ترقی ، معاشرتی بہبود اور خصوصی تعلیم بن گئیں۔

انہوں نے اپنے سیاسی سفرکا آغاز 1987 ء میں کیا، انہوں نے اپنا پہلا الیکشن 1993ء میں لڑا جس میں انہوں نے پورے پنجاب سب سے زیادہ لیڈ وہاڑی میں حاصل کی۔ 2002سے 2007ء مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے ایم این اے رہیں۔ 2008ء میں الیکشن جیتیں، 2010ء میں وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی رہیں ۔2013ء سے 2018ء سے ایم این اے بنیں اب 2024ء میں مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے الیکشن جیتا۔ 2013اور 2018ء میں ان کے چھوٹے بیٹے میاں عرفان دولتانہ آبائی حلقے لڈن سے ایم پی اے رہے، میاں عمران دولتانہ مسلم لیگ ن کے ضلعی صدر وہاڑی ہیں اور محترمہ کے ساتھ مل کر حلقے میں کام کرتے ہیں۔محترمہ اب تک 7بار الیکشن لڑیں جس میں 4بار ایم این اے منتخب ہوئیں، 2بار ریزرو سیٹ پر ایم این اے بنیں اور ایک الیکشن میں شکست ہوئی۔ پارٹی میں شمولیت کے بعد پی ایم ایل کی خواتین اور یوتھ ونگ کی جنرل سکریٹری کے طور پر منتخب کیا ۔ دولتانہ خاندان کے خصائل میں اپنے سیاسی قائدئین کے ساتھ وفاداری اور عوامی خدمت اور نظریاتی وابستگی کا عنصر نمایاں ہے ۔ محترمہ تہمینہ دو لتانہ نے 1987 ء میں مسلم لیگ ن میں شامل ہوئی اور اس وقت سے تاحال پارٹی پر مصائب کا جو بھی پہاڑ آیا وہ ہر موقعہ پر اپنے آہنی عزم کے ساتھ قائم رہی انکے پایا استقامت میں لرزش نہ آئی ، ایم آرڈی کی تحریک ہو یا مشرف دور کے سیاسی انتقام کا زمانہ ہو محترمہ تہمینہ دو لتانہ نے بطور نائب صدر خواتین ون مسلم لیگ ن محترمہ کلثوم نواز شریف کے شانہ بشانہ جہاد کیا اس دوران ریاست گردی ہو پولیس گردی ہو لاٹھیوں کی یلغار ہو یا گولیوں کی ترتراہٹ ہو محترمہ تہمینہ دو لتانہ نے اپنے نظریاتی وابستگی کا بھرم قائم رکھا محترمہ تہمینہ دو لتانہ چوتھی مرتبہ ممبر قومی اسمبلی منتخب ہو چکی ہیں اور اس دوران انہوں نے عوامی فلاح کے بے شمار منصوبے جن میں دور دراز دیہات میں بجلی کی فراہمی ، خواتین کے لئے مقامی طور پر رزق کے موقعہ فراہم کرنا دور درز دیہات میں ترقیاتی کاموں میں ڈسٹرکٹ ہسپتال وہاڑی کی اپ گریڈیشن ، کومسیٹس یونیورسٹی کا قیام اور میڈکل کالج کی منظوری اور وہاڑی سے ملتان 100 کلومیٹر دو رویہ سڑک کی تعمیر شامل ہیں۔ محترمہ تہمینہ دو لتانہ 1996 ء سے 1999 ء میں وزیر مملکت برائے خواتین کی ترقی ، معاشرتی ترقی و خصوصی ترقی کے عہدہ پر فائز ہوئی اور انکی قائدانہ صلاحیتوں کی وجہ سے نہ صرف یہ محکمہ جات عوامی فلاح میں متحرک نظر آئے بلکہ مسلم لیگ ن کی پالیسیاں عوام میں مقبول ہوئی ۔صد حیف کہ ہمارے ملک کی سیاسی پارٹیاں مصلحتوں کا شکار نظر آتی ہیں ۔ نظریاتی سیاسی زعما مشکل وقت میں اپنی پارٹیوں کا اثاثہ ہوتے ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انکو یکسر فراموش کر دیا جاتا ہے اور حکومتی اعہداجات دیگر مصلحتوں کے تحت بانٹے جاتے ہیں وہاڑی کی عوام فیصلہ سازوں کے روبروں التماس کرتی ہیں کہ گزشتہ الیکشن میں ضلع وہاڑی مسلم لیگ ن کا قلعہ ثابت ہوا تو محترمہ تہمینہ دو لتانہ کی مخلصانہ کاوش عوام دوستی اور عوامی فلاح کے منصوبہ جات تھے لہٰذا انکو وزارت کا قلمدان سونپا جائے تاکہ وہاڑی کی عوام کی محرومی دور ہو اور باقی مائندہ ترقیاتی کام مکمل ہو سکیں ۔
محترمہ تہمینہ دولتانہ کا مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف کے ساتھ شانہ بشانہ کام کرتی رہی ہیں، میاں نواز شریف محترمہ کو آپا کہہ کر پکارتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ محترمہ نے محترمہ کلثوم نواز کے ساتھ بھی کام کیا اور میاں نواز شریف کے ملک سے باہر جانے کے بعد وہ محترمہ کے ساتھ میاں نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے شانہ بشانہ ان کے ساتھ رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ بزنس ویمن بھی ہیں۔محترمہ وہاڑی میں میڈیکل کالج کی منظوری کیلئے کوششیں کر رہی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nai Baat

کلیدی لفظ: میاں نواز شریف مسلم لیگ ن کے ایم این اے لتانہ نے انہوں نے کے ساتھ کے بعد

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • کلچر کب تہذیب بنتا ہے
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • فرانس؛ جیفری ایپسٹین کا قریبی ساتھی بھی پراسرار حالت میں مردہ پایا گیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • بلاول بھٹو نے مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ پابندیاں جلد ختم ہونے کی امید ظاہر کر دی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار