پی ٹی آئی چیمپئنز ٹرافی اور صدر اردوان کی آمد کے موقع پر احتجاج نہ کرے، وفاقی وزیر
اشاعت کی تاریخ: 2nd, February 2025 GMT
لندن(نیوز ڈیسک)لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن میں منعقد اڑان پاکستان کے حوالے سے ہونے والی پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چیمپئنز ٹرافی اور ترکیہ کے صدر کی آمد کے موقع پر احتجاج نہ کرے۔لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کی منفی سیاست کا لوگوں نے بائیکاٹ کیا، لوگوں کو یہ بات سمجھ آگئی کہ ملک کا مستقبل امن اور سیاسی استحکام سے ہی روشن ہوگا۔
انہوں نے پی ٹی آئی کو مشورہ دیا کہ وہ چیمپئنز ٹرافی اور ترکیہ کے صدر کی آمد کے موقع پر احتجاج نہ کرے، یہ احتجاج کی کال دے کر ثابت کررہے ہیں کہ وہ پاکستان دشمنوں کے اشارے پر انتشار پھیلاتے ہیں، ان کو ہمیشہ اہم موقع پر دھرنے یاد آجاتے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ دوسری بات برطانیہ میں اگر کسی وزیراعظم کے خلاف کرپشن ثابت ہوجائے تو تمام عمر کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے لیکن یہ پی ٹی آئی کے کیسے لوگ ہیں جو ہمیں بتاتے تھے کہ وہ کرپشن ختم کرنے نکلے ہیں لیکن اب وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی چوری کے وکیل بنے ہوئے ہیں اور میں یہ بات کہہ چکا ہوں جو بھی لوگ اس جرم میں شریک ہیں ان سب کے خلاف کارروائی ہوگی۔
احسن اقبال کا کہنا تھاکہ دوسروں سے رسیدیں مانگنے والے کی اپنی رسیدیں جعلی نکلیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہیتھرو ائیر پورٹ پر جلد دوبارہ پی آئی اے کے طیارے اتریں گے، ماضی کے وزیر کے ایک احمقانہ بیان کے سبب ملک کو بڑا مالی نقصان ہوا۔احسن اقبال کا کہناتھاکہ ایسی اور کوئی دوسری قوم نہیں دیکھی جو اپنے گندے کپڑے دوسرے ممالک میں دھوتی ہے، آکسفورڈ میں بعض پاکستانی طلبہ نے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ڈالنے پر پاکستان کو “ روگ اسٹیٹ” قرار دیا جن کو مناسب جواب دیا بعد میں وہی طلبہ میرے ساتھ سیلفیاں بنواتے رہے۔خیال رہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان 12 رکنی وفد کے ہمراہ 12 فروری کو پاکستان آئیں گے۔
سوڈان، ریپڈ سپورٹ فورس کا بازار پر حملہ، 54 افراد جاں بحق
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: احسن اقبال پی ٹی ا ئی
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس