بالی ووڈ میں نئی نئی قدم رکھنے والی اداکارہ راشا تھاڈانی نے انکشاف کیا ہے کہ انھیں بچپن میں کئی بار تھپڑوں سے مارا گیا۔

اس سال کے آغاز میں بالی ووڈ میں کئی نئے چہروں نے قدم رکھا ہے، جن میں ماضی کی سپراسٹار روینہ ٹنڈن کی بیٹی راشا تھاڈانی بھی شامل ہیں۔ انھوں نے فلم ’آزاد‘ سے ڈیبیو کیا، جو کوئی خاص کامیابی حاصل کرنے میں ناکام رہی، تاہم راشا کی اداکاری اور رقص نے ناظرین کی توجہ حاصل کی۔

پہلی فلم ریلیز ہونے کے بعد ایک انٹرویو میں راشا نے اپنی والدہ روینہ ٹنڈن کے ساتھ بہترین تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ’’وہ میری بہترین دوست ہیں اور بہت ہی ’کول‘ ماں ہیں۔‘‘

19 سالہ اداکارہ نے مزید بتایا کہ ’’جب میں بچی تھی تو کئی بار تھپڑ بھی پڑ جاتے تھے۔ میں بچپن میں اپنے ناخن کترتی تھی تو والدہ ان پر ٹیپ لگا دیتی تھیں تاکہ میں ایسا نہ کر سکوں۔‘‘

راشا تھاڈانی نے اپنی شرارتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں بہت شیطان تھی، بہت زیادہ مستی کرتی تھی، ممی پاپا حیران ہو جاتے تھے۔ اگر روینہ کہتی تھیں کہ یہ نہیں کرنا تو میں کہتی تھی ’اوکے ماما‘، مگر ٹھیک ایک منٹ بعد وہی کام کرتی تھی۔‘‘

ان کے اس بے باک انکشاف نے مداحوں میں دلچسپی پیدا کر دی ہے اور ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی والدہ سے گہرا رشتہ رکھتی ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • مستونگ میں فتنہ الہندوستان کے 6 دہشتگرد مارے گئے، مرد و خواتین خودکش بمبار گرفتار
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف