نیند میں خلل آنے پر سفاک ملازمہ کا نومولود پر تشدد
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
سٹی42: نومولود بچے کے رونے سے ملازمہ کی نیند میں خلل آنے کے بائث سفاک گھریلو ملازمہ اپنا غصہ 3ماہ کے بچےپر نکالتی رہی، جس کی کلوز سرکٹ فوٹیج سامنے آگئی۔
بچے کو طبیعت بگڑنے پر والدین نے ہسپتال منتقل کیا۔
ملازمہ والدین کے گھر سے جانے پر گھر سے نقدی،زیورات چوری کر کے فرار ہوگئی۔ نومولود کے والدین نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو بچے پر تشدد کا انکشاف ہوا۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ملازمہ نومولود کے رونے پر تشدد کرتی رہی، ملازمہ نے بچے کے چہرے پر کپڑا رکھ کر سانس بند کرنے کی کوشش کی اور بچے کے چہرے پر تھپڑ برساتی رہی۔
پولیس نے مقدمہ درج کر کے خاتون کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔
سرکاری سکولز کو نجی اور سرکاری اشتراک سے چلانے کے فیصلے کیخلاف درخواست ,ایڈووکیٹ جنرل پنجاب طلب
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سٹی42
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔