فیفا کلب ورلڈ کپ میں پہلی بارپاکستانی پلیئر کی شمولیت
اشاعت کی تاریخ: 4th, February 2025 GMT
آکلینڈ(اسپورٹس ڈیسک )فیفا کلب ورلڈ کپ میں پہلی بار پاکستانی پلیئر کی شمولیت یقینی ہوگئی۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے فٹبالر حارث زیب کا نیوزی لینڈ کے کلب “آکلینڈ سٹی” سے معاہدہ ہوگیا۔آکلینڈ سٹی اس سال ہونے والے فیفا کلب ورلڈ کپ میں حصہ لے گا۔ آکلینڈ سٹی نے اوشیانا چیمپئنز لیگ جیت کر فیفا کلب ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کیا تھا۔فیفا کلب ورلڈ کپ میں آکلینڈ کا مقابلہ جرمن کلب بائرن میونخ، ارجنٹائن کے بوکا جونیئر اور پرتگال کے کلب بینفیکا سے مقابلہ ہوگا۔حارث زیب نے آکلینڈ سٹی کے ساتھ پری سیزن ٹریننگ شروع کردی ہے۔23 سالہ حارث زیب کو 2023 کے چار ملکی ٹورنامنٹ کیلئے پاکستاں ٹیم میں بلایا گیا تھا۔انجری کی وجہ سے حارث زیب ماریشس میں ہونے والا ایونٹ نہیں کھیل سکے تھے۔2001 میں نیوزی لینڈ میں پیدا ہونے والے حارث پاکستان اور نیوزی لینڈ کی شہریت رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: آکلینڈ سٹی
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔