عمران خان کا افغان قیادت کیلیے خصوصی پیغام قائم مقام سفیر کے حوالے؛ ویڈیو
اشاعت کی تاریخ: 5th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
پختونخوا حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے قائم مقام افغان سفیر سے ملاقات کی ہے۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے افغانستان کے پاکستان میں قائم مقام سفیر مولوی سردار احمد شکیب سے ملاقات کی، اس موقع پر سینئر سیاستدان محمد علی درانی اور مولانا فضل الرحمان خلیل بھی شریک تھے۔
بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف نے بانی پی ٹی آئی عمران خان اور وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی طرف سے افغانستان کی قیادت کے لیے خصوصی پیغام بھی سفیر مولوی سردار احمد شکیب کے حوالے کیا ۔
انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے افغانستان کے عوام کے لیے نیک تمناؤں اور برادرانہ خیر سگالی کا پیغام دیا ہے۔ اس موقع پر پاکستان اور افغانستان کے درمیان خوشگوار، باہمی بااعتماد اور دوطرفہ تعاون پر مبنی تعلقات کے فروغ پر اتفاق کیا گیا ۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے عوام کے درمیان رابطے بڑھانے پر گفتگو ہوئی۔
بیرسٹر سیف نے قائم مقام افغان سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی و سیاسی عمائدین اور علما کا وفد افغانستان لانا چاہتے ہیں۔
افغانستان کے قائم قام سفیر مولوی سردار احمد شکیب نے بانی پی ٹی آئی عمران خان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور اور وفد کی طرف سے نیک تمناؤں کے اظہار پر جوابی خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا ۔ انہوں نے بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف، محمد علی درانی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کا شکریہ ادا کیا ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی مضبوطی خطے اور عوام کے مفاد میں ہے۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کے لیے آپ کا کردار قابل تعریف ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: افغانستان کے محمد علی سیف نے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔