پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کو حل کرنے میں لیڈ کرنا چاہیے: ورلڈ بینک
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک)بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نمائندہ ورلڈ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کو حل کرنے میں لیڈ کرنا چاہیے۔
بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ چینج کانفرنس آج دوسر ے روز بھی جاری ہے، کانفرنس سے ورلڈ بینک، اقوام متحدہ، حکومتی لیڈران، سیاسی نمائندوں اور جوڈیشری سے منسلک لوگوں نے خطاب کیا۔
کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے نمائندہ ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی جی ڈی پی کا سالانہ 9 فیصد نقصان موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے کررہا ہے جبکہ اپنی جی ڈی پی کا 6 فیصد نقصان اربن ٹرانسپورٹ کی وجہ سے برداشت کررہا ہے، موسمیاتی تبدیلیاں غریب لوگوں کا مسئلہ ہے ۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کا ذمہ دار ہے اور نہ ہی پاکستان کی وجہ سے لاس اینجلس میں آگ لگی ، پاکستان کو باہر کی دنیا کا انتظار نہیں کرنا چاہیے خود مسائل کا حل نکالنا چاہیے، کلائمیٹ چینج صرف شعبہ توانائی کی وجہ سے نہیں ہے، سب سے بڑا مسئلہ زراعت اور پانی کا ہے، عالمی مارکیٹ میں ایگریکلچر کے 17 فیصد شیئرز کم ہوئے ہیں ۔
نمائندہ ورلڈ بینک کا کہنا تھا کہ پاکستان وہ ملک ہے جس کا عالمی سطح پر گیسز کا اخراج کم ہے لیکن پھر بھی اسے بری طرح موسمیاتی تبدیلی کا سامنا ہے، عالمی سطح پر موسمیاتی ناانصافیاں ہورہی ہیں، کیا کاپ 29 میں جو وعدے کیے گئے تھے وہ پورے ہوئے ہیں؟ ہوا کی آلودگی کی وجہ سے سالانہ 7 ملین لوگ لقمہ اجل بنتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جہاں دنیا موسمیاتی تبدیلی کے حل سے پیچھے ہٹنے لگی وہیں پر پاکستان قدم بڑھا رہا ہے، پاکستان کو ہی موسمیاتی تبدیلی کو حل کرنے میں لیڈ کرنا چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی کہ پاکستان پاکستان کو کرنا چاہیے ورلڈ بینک کی وجہ سے
پڑھیں:
اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔
اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔