ایم کیو ایم پاکستان کے چئیرمین ڈاکٹرخالد مقبول صدیقی کا سی اوسی کے رکن عزیز شاہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
اشاعت کی تاریخ: 7th, February 2025 GMT
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 فروری2025ء)ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے سینٹرل آ رگنائزنگ کمیٹی کے رکن عزیز شاہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ عزیز شاہ نہایت ہی مخلص اور محنتی کارکن تھے ہر مشکل حالات میں تحریک سے جڑے ہوئے تھے ان کی وفات سے تحریک ایک مخلص کارکن سے محروم ہوگء۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے عزیز شاہ کے تمام سوگواران سے دلی تعزیت و ہمدردی کرتے ہوئے انھیں صبر کی تلقین کی اور اللہ تعالی سے دعا کی کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا کرے ۔دریں اثنا مرحوم عزیز شاہ کی نمازہ جنازہ مسجد نور فیڈرل بی ایریا میں ادا کی گئی جبکہ تدفین سخی حسن قبرستان میں ان کو آ ہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔(جاری ہے)
نمازہ جنازہ و تدفین میں ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سئینر رہنما انیس قائم خانی ،مرکزی کمیٹی کے اراکین،ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماوں،سی او سی کے انچارج و اراکین ،سابقہ مئیر کراچی وسیم اختر ،حق پرست اراکین اسمبلی ٹاون و یو سی کے انچارجز و کارکنان ہمدردوں و مرحوم کے عزیز و اقارب نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مرحوم کے بلند درجات کے لئے فاتحہ کی گئی۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ایم کیو ایم پاکستان کے مقبول صدیقی عزیز شاہ
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔