مستقبل میں پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے: مریم اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
مریم اورنگزیب---فائل فوٹو
پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ مستقبل میں پانی کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ان کا کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن (سی پی اے) سے خطاب کے دوران کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
سینئر وزیر نے کہا ہے کہ ہمیں اس وقت ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہو گی، پنجاب میں شہری اور دیہی منصوبہ بندی کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما ملک احمد بھچر نے کہا ہے کہ حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں بنانا ضروری ہیں۔
مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ایئر کوالٹی انڈیکس کے لیے مانیٹرنگ کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا ہے کہ پنجاب میں صنعتوں کی میپنگ کی جا رہی ہے، پنجاب کے مختلف شہروں میں ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے لیے کام کر رہے ہیں۔
مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا ہے کہ ماحولیاتی نقصانات سے بچاؤ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی مریم اورنگزیب کہا ہے کہ کے لیے
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔