مریم اورنگزیب---فائل فوٹو

پنجاب کی سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ مستقبل میں پانی کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان کا کامن ویلتھ پارلیمنٹری ایسوسی ایشن (سی پی اے) سے خطاب کے دوران کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایک اہم اور سنگین مسئلہ ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، اس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

سینئر وزیر نے کہا ہے کہ ہمیں اس وقت ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح دینا ہو گی، پنجاب میں شہری اور دیہی منصوبہ بندی کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں ایشیاء سی پی اے کانفرنس کا بائیکاٹ کرینگے: ملک احمد خان بچھر

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی اور پی ٹی آئی رہنما ملک احمد بھچر نے کہا ہے کہ حکومت انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات سے نمٹنے کے لیے پالیسیاں بنانا ضروری ہیں۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ ایئر کوالٹی انڈیکس کے لیے مانیٹرنگ کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے بتایا ہے کہ پنجاب میں صنعتوں کی میپنگ کی جا رہی ہے، پنجاب کے مختلف شہروں میں ماحولیاتی تبدیلی سے بچاؤ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

مریم اورنگزیب نے یہ بھی کہا ہے کہ ماحولیاتی نقصانات سے بچاؤ کے لیے ادارہ جاتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: موسمیاتی تبدیلی مریم اورنگزیب کہا ہے کہ کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیا
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن