امریکا کا اسرائیل کو 7 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 8th, February 2025 GMT
واشنگٹن : امریکا نے اسرائیل کو 7 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کا اعلان کردیا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق امریکی میڈیا کے مطابق محکمہ خارجہ نے کانگریس کے جائزے کے بغیر اسرائیل کو اسلحہ فروخت کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کو فروخت کیے جانے والے اسلحہ میں ہزاروں ہیل فائر میزائل اور بم شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اعلان اسرائیلی وزیراعظم کی صدر ٹرمپ اور دیگر حکام سے ملاقات کے بعد کیا گیا۔
خیال رہے کہ سابق صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے اپنے دور میں اسرائیل کو 20 ارب ڈالر کے اسلحے کی فروخت کی منظوری دی تھی۔
واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ خطے میں روس یوکرین جنگ اور غزہ کی صورتحال کے بعد امریکی اسلحے کی فروخت میں ریکارڈ اضافہ ہوا تھا۔
چند روز قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل کے روکے گئے ہتھیاروں کو جاری کردیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسلحے کی فروخت اسرائیل کو
پڑھیں:
ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے یورپی یونین جیسے گروپوں اور ممالک سمیت 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے ٹیرف نافذ کر دیئے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمی سن گریئر نے بیان میں کہا ہےکہ نئی ڈیوٹیز امریکی تجارتی قانون 1974 کے سیکشن 301 کے تحت نافذ کی گئی ہیں اور ان کا اطلاق امریکی درآمدات کے تقریباً 99.4 فیصد حصے پر ہوگا، تاہم تیل و گیس، کھاد اور بعض غذائی اشیاء سمیت متعدد مصنوعات کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ان ممالک میں یورپی یونین،جاپان، جنوبی کوریا، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، کینیڈا، بھارت ، برطانیہ، میکسیکو اور دیگر شامل ہیں۔(جاری ہے)
جیمی سن گریئر نے کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرتا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی ایسے ہی موثر اقدامات کریں۔
امریکا نے ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو ،سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ پر پہلے سے موجود درآمدی محصولات کو مدنظر رکھتے ہوئے مجموعی ٹیرف 10 یا 12.5 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ باقی 38 ممالک پر 12.5 فیصد شرح نافذ کی گئی ہے جن میں چین اور ویتنام بھی شامل ہیں۔ امریکا کے اس اقدام پر متعدد ممالک نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے احتجاج کیا۔ یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کیلس نے کہا کہ یورپی بلاک اس اقدام کو ایک غیر متوقع دھچکا سمجھتا ہے اور امریکا کی جانب سے پیش کی گئی اس کی توجیہ ناقابلِ فہم ہے۔