راکیش روشن کینسر سے کیسے صحتیاب ہوئے؟ فلمساز کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
بھارتی فلمساز اور ماضی کے معروف اداکار راکیش روشن نے اپنی کینسر سے صحت یابی کی حوصلہ افزا کہانی بیان کی ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق راکیش روشن نے انکشاف کیا کہ کینسر کے آپریشن سے قبل وہ اپنے بیٹے ہریتک روشن کے ساتھ باقاعدگی سے جِم میں ورزش کیا کرتے تھے۔
گلے کے کینسر کو شکست دینے والے راکیش روشن نے اپنی جدوجہد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ اصل طاقت ذہنی مضبوطی میں ہے اور یہی چیز مشکلات کا سامنا کرنے میں مدد دیتی ہے۔
A post common by Bollywood Bubble (@bollywoodbubble)
اپنے حالیہ انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ آپریشن سے پہلے انہوں نے ایک گھنٹہ جم میں ورزش کی، اس کے بعد تیار ہو کر اسپتال گئے۔ ان کا آپریشن دوپہر ایک بجے شروع ہوا، چار بجے وہ اسپتال کے کمرے میں منتقل کیے گئے، اور شام پانچ بجے وہ اپنے پیروں پر چلنے کے قابل ہو گئے تھے۔
راکیش روشن کا کہنا تھا کہ 2018 میں انہیں گلے کے کینسر کی تشخیص ہوئی۔ وہ اس وقت ہریتک کے گھر پر تھے جہاں کیے گئے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا۔ ڈاکٹروں نے انہیں زبان کاٹنے اور گرافٹنگ کی تجویز دی، جس پر وہ خوفزدہ ہوگئے کیونکہ وہ ایسا کچھ نہیں کروانا چاہتے تھے تاہم انہوں نے ہمت سے کام لیا اور عزم کیا کہ وہ ٹھیک ہوجائیں گے۔
A post common by Bollywood Bubble (@bollywoodbubble)
انہوں نے انکشاف کیا کہ کینسر سے لڑنے کی ہمت انہیں اپنی بیٹی سے ملی، جو پہلے ہی اس بیماری سے نبرد آزما ہوچکی تھی۔ اسی حوصلے کے ساتھ انہوں نے بیماری کو ہلکا لینا شروع کیا اور حتیٰ کہ آپریشن کے دن بھی ورزش کرنے کے بعد اسپتال گئے۔
راکیش روشن کا کہنا تھا کہ صحت مند زندگی کیلئے ورک آؤٹ بےحد ضروری ہے اور وہ آج بھی اپنے بیٹے کے ساتھ جِم میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل راکیش روشن انہوں نے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔