قومی ٹیلنٹ دیکھ کر بھارت بھی ایک دن پاکستان آکر کھیلنے پر مجبور ہوگا، رانا مشہود
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود نے کہا ہے کہ سیاسی نہیں بلکہ عملی طور پر قومی کھیل کے لیے اقدامات کررہے ہیں، وزیراعظم نے 2025 کو ہاکی کی بحالی کا سال قرار دے رکھا ہے جب کہ ہمارا ٹیلنٹ دیکھ کر بھارت بھی ایک دن پاکستان آکر کھیلنے پر مجبور ہوگا۔
ڈان نیوز کے مطابق لاہور میں کرکٹ کے ساتھ ساتھ انٹرنیشنل ہاکی میلے کی تیاریاں بھی جاری ہیں، جرمن اور ہالینڈ کے معروف ہاکی کلبز 11 فروری کو لاہور پہنچیں گے جب کہ وزیراعظم کی ہدایت پر یوتھ پروگرام کی ٹیم بھی ایکشن میں ہوگی۔
لاہور میں ٹیم کے انتخاب کے لیے جوہر ٹاؤن ہاکی اسٹیڈیم میں ٹرائلز ہوئے، چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود نے ٹرائلز کی نگرانی کی، ٹرائلز میں چاروں صوبوں سے 250 سے زائد نوجوان کھلاڑیوں کی شرکت کی، اسلام آباد اور گلگت کے کھلاڑی بھی اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے پہنچے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں مسلم لیگ (ن) کے ایم پی اے اور چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام رانا مشہود کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت نوجوانوں کو ہر شعبے میں آگے لارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو انتشار کے بجائے آگے بڑھنے کا موقع دینے سے ملک ترقی کرے گا، سیاسی نہیں بلکہ عملی طور پر قومی کھیل کے لیے اقدامات کررہے ہیں، بھارت بھی ایک دن پاکستان آکر کھیلنے پر مجبور ہوجائےگا۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور میں انٹرنیشنل ہاکی کھلاڑیوں کی آمد پربہت خوشی ہے، ہاکی کے نوجوان کھلاڑیوں کو غیر ملکیوں سے کھیلنے کا موقع دے رہے ہیں جب کہ خواجہ جنید فوکل پرسن اور پرویز سنڈھیلا یورپین ہاکی کوآرڈینیٹر ہیں۔
مزیدپڑھیں:علی ظفر کا چیف جسٹس کو خط، کل کا جوڈیشل کمیشن اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: یوتھ پروگرام رانا مشہود کے لیے
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔