اسلام آباد؛ لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون بند رکھنے کیلئے ایڈوائزری جاری
اشاعت کی تاریخ: 9th, February 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ شہر میں لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند ہوں گے۔
اسلام آباد کی ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا کہ 10 فروری 2025 کو لا اینڈ آرڈر کی صورت میں ریڈ زون کے داخلی اور خارجی راستے بند رہیں گے۔
ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون کے داخلی اور خارجی راستے سرینا، نادرا، میریٹ، ایکسپریس چوک اورٹی کراس بری امام صبح 6 بجے سے تاحکم ثانی عارضی طور پر بند ہوں گے۔
پولیس نے کہا کہ عوام الناس سے گزارش ہے کہ کسی بھی سفری دشواری سے بچنے کے لیے متبادل کے طور پر مارگلہ روڈ استعمال کر سکتے ہیں تاہم اسلام آباد ٹریفک پولیس آپ کی رہنمائی کے لیے مصروف عمل ہے۔
ٹریفک پولیس نے شہریوں سے کہا کہ مزید معلومات کے لیے ٹریفک ہیلپ لائن نمبر 1915 اور اسلام آباد ٹریفک پولیس کے دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے رہنمائی لیں۔
وفاقی دارالحکومت کی ٹریفک پولیس نے کہا کہ ریڈزون میں صرف مار گلہ روڈ سے داخلے کا راستہ دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ٹریفک پولیس اسلام آباد پولیس نے کہا کہ
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔