وزیراعظم آج ورلڈ گورنمنٹس سمٹ میں شرکت کیلئے امارات جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 10th, February 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیر اعظم محمد شہباز شریف متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم شیخ محمد بن راشد المکتوم کی دعوت پر ورلڈ گورنمنٹس سمٹ (ڈبلیو جی ایس) میں شرکت کیلئے10 سے11 فروری2025 ء تک متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کا دو روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔ ترجمان وزارت خارجہ کی جانب سے اتوار کو جاری بیان کے مطابق شیخ محمد بن راشد المکتوم کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں گورننس، اختراعات اور بین الاقوامی تعاون کے مستقبل پر تبادلہ خیال کے لیے ریاستوں/حکومتوں کے سربراہان، عالمی پالیسی سازوں اور نجی شعبے کے سرکردہ رہنمائوں کی ایک کثیر تعداد کو مدعو کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا مارچ2024 ء میں عہدہ سنبھالنے کے بعد متحدہ عرب امارات کا یہ دوسرا دورہ ہے۔ وزیر اعظم کے ہمراہ نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور کابینہ کے دیگر اہم ارکان اور ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی ہو گا، جو متحدہ عرب امارات اور دیگر عالمی شراکت داروں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اپنے دورے کے دوران، وزیراعظم ڈبلیو جی ایس سے کلیدی خطاب کریں گے۔ جس میں جامع اقتصادی ترقی، ڈیجیٹل تبدیلی اور گورننس اصلاحات کے لیے پاکستان کے وژن کو اجاگر کیا جائے گا۔ وہ متحدہ عرب امارات کی قیادت کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے اور شریک ممالک کے سربراہان مملکت/حکومت اور صف اول کی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سرکردہ چیف ایگزیکٹو افسران سے بھی ملاقات کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: متحدہ عرب امارات کریں گے
پڑھیں:
عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے
بشکیک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے کرغزستان پہنچ گئے، جہاں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔
اجلاس کی میزبان ریاست کرغزستان کے وزیر خارجہ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا استقبال کیا۔ اس موقع پر مختلف رکن ممالک کے نمائندے بھی موجود تھے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے اس سالانہ اجلاس میں چین، روس، پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شریک ہیں۔ اجلاس میں خطے کی سکیورٹی، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، علاقائی روابط اور باہمی شراکت داری سمیت مختلف اہم موضوعات پر بات چیت کی جا رہی ہے۔
عباس عراقچی نے اجلاس کے موقع پر ایک گروپ تصویر بھی جاری کی، جس میں وہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ای، روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ہمراہ اپنے اپنے قومی پرچموں کے سامنے موجود ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم ایک اہم کثیرالجہتی علاقائی تنظیم ہے، جس کا مقصد رکن ممالک کے درمیان باہمی اعتماد کو فروغ دینا، اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانا اور خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانا ہے۔
اگرچہ تنظیم سکیورٹی اور علاقائی استحکام کے معاملات پر بھی توجہ دیتی ہے، تاہم یہ کسی فوجی یا دفاعی اتحاد کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے وقت میں جب خطے میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی برقرار ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کا یہ اجلاس رکن ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔