پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، 1 لاکھ 13 ہزار پوائنٹس کی سطح بحال
اشاعت کی تاریخ: 11th, February 2025 GMT
کراچی:
انسٹیٹیوشنز اور میوچل فنڈز کی جانب سے نچلی قیمتوں پر حصص کی خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو دوسرے دن بھی ریکوری اور تیزی کا تسلسل برقرار رہا جس سے انڈیکس کی 1لاکھ 12ہزار اور 1لاکھ 13ہزار پوائنٹس کی دو سطحیں بحال ہوگئیں۔
تیزی کے سبب 59.06فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں 1کھرب 73ارب 12 کروڑ 57لاکھ 99ہزار 487روپے کا اضافہ ہوگیا۔
کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر 456پوائنٹس کی مندی بھی ہوئی تاہم اس دوران سیمنٹ اسٹیل آئل اینڈ گیس سیکٹر میں مختصر المدت سرمایہ کاری سے مارکیٹ کا گراف بلندی کی جانب گامزن ہوا جس سے ایک موقع پر 1856پوائنٹس کی تیزی بھی رونما ہوئی لیکن اختتامی لمحات میں دوبارہ پرافٹ ٹیکنگ سے تیزی کی مذکورہ شرح میں کمی واقع ہوئی۔
نتیجتا کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1632.
کاروباری حجم پیر کی نسبت 17.28فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر 48کروڑ 69لاکھ 35ہزار حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 447 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 264 کے بھاو میں اضافہ 117 کے داموں میں کمی اور 66 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں یونی لیور پاکستان فوڈز کے بھاو 183.14 روپے بڑھ کر 23415.42روپے اور سفائر ٹیکسٹائل ملز کے بھاو 34.32روپے بڑھ کر 1200روپے ہوگئے جبکہ رفحان میظ پراڈکٹس بھاو 124.95روپے گھٹ کر 9365.05روپے اور فلپس موریس پاکستان کے بھاو 20.87روپے گھٹ کر 661.61روپے ہوگئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی پوائنٹس کے اضافے سے حصص کی
پڑھیں:
امریکا ایران کشیدگی کے اثرات: تیل کی قیمتوں میں تیزی، بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پر
امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی جھڑپوں اور تعطل کا شکار امن مذاکرات کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی بڑھ گئی ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سرمایہ کاروں نے خطرات کے پیشِ نظر کرپٹو کرنسیوں سے ہاتھ کھینچنا شروع کر دیا۔ دوسری جانب مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے وابستہ کمپنیوں کے حصص نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو سہارا فراہم کیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کارروائیوں کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ بدھ کے روز خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے دن اضافہ دیکھا گیا، جبکہ امریکی ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 160 کی سطح کے قریب پہنچ گیا۔
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات تعطل کا شکار ہونے اور خلیج میں دوبارہ کشیدگی بڑھنے کے بعد امریکی خام تیل کے فیوچر معاہدوں کی قیمت تقریباً 2 فیصد اضافے کے ساتھ 95.40 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ادھر ڈالر 160 ین کی سطح کو چھونے کے بعد کچھ پیچھے ہٹ گیا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ جاپانی حکام اس سطح پر پہنچنے کے بعد کرنسی مارکیٹ میں مداخلت کر سکتے ہیں۔
تیل کے ذخائر میں مسلسل کمیرسد کے حوالے سے بھی منڈی کو سہارا ملا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق امریکی پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکا میں خام تیل کے ذخائر مسلسل ساتویں ہفتے کم ہوئے ہیں۔
29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران خام تیل کے ذخائر میں 68 لاکھ بیرل کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کار امریکی حکومت کی جانب سے جاری کیے جانے والے سرکاری ذخیرہ جاتی اعداد و شمار کے منتظر ہیں۔
آبنائے ہرمز کھولنے کی کوششیں آسان نہیںاے این زیڈ بینک کے سینئر کموڈٹی اسٹریٹجسٹ ڈینیل ہائنس کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے بڑے حصوں میں بارودی سرنگیں بچھا چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ کچھ مزید جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم مجموعی بحری ٹریفک اب بھی جنگ سے پہلے کی سطح سے کافی کم ہے۔
امریکی اور ایرانی دعوے آمنے سامنےامریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع ایرانی جزیرے قشم پر کارروائی کی۔ اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمان (سینٹکام) کے مطابق ایران نے کویت اور بحرین کی جانب میزائل داغے، تاہم وہ یا تو اپنے اہداف تک پہنچنے میں ناکام رہے یا انہیں راستے میں ہی روک لیا گیا۔
دوسری جانب پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران نے اعلان کیا تھا کہ وہ جنگ بندی کے لیے ایک ابتدائی سمجھوتے تک پہنچ گئے ہیں، تاہم اب تک کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہو سکے۔
سرمایہ کاروں کی امیدوں کو دھچکامیلبورن میں بروکریج ادارے پیپر اسٹون کے تحقیقی شعبے کے سربراہ کرس ویسٹن کے مطابق گزشتہ ہفتے تک مالیاتی منڈیوں کو یقین تھا کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی مفاہمتی یادداشت تک پہنچ جائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال زیادہ غیر یقینی دکھائی دے رہی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکراتی عمل پہلے کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہو گیا ہے اور سرمایہ کار اپنی سابقہ پوزیشنیں ختم کر رہے ہیں۔
بٹ کوائن 2 ماہ کی کم ترین سطح پرفوجی کشیدگی کے باعث کرپٹو کرنسی مارکیٹ بھی شدید دباؤ کا شکار رہی۔
دنیا کی سب سے بڑی ڈیجیٹل کرنسی بٹ کوائن مسلسل 3 تجارتی سیشنز میں تقریباً 10 فیصد گرنے کے بعد 66 ہزار 123 ڈالر کی سطح تک آ گئی، جو 2 ماہ کی کم ترین سطح ہے۔
اے آئی کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرارجہاں ایک طرف جنگی خدشات نے مالیاتی منڈیوں کو متاثر کیا، وہیں مصنوعی ذہانت سے متعلق کمپنیوں کے حصص میں تیزی برقرار رہی۔
امریکی اسٹاک مارکیٹ کے اہم اشاریے ایس اینڈ پی 500 کے فیوچر معاہدوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، تاہم ایشیا میں اے آئی شعبے کی بدولت حصص کی منڈیوں نے نئی بلندیاں چھو لیں۔
تائیوان اور جاپان کے اسٹاک انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جبکہ جنوبی کوریا کی مارکیٹ بند رہی۔
مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں غیر معمولی اضافہچِپ ساز کمپنی مارویل ٹیکنالوجی کے حصص میں 32.5 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا اور وہ ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے۔
اس اضافے کی ایک بڑی وجہ این ویڈیا کے چیف ایگزیکٹو جینسن ہوانگ کا بیان تھا، جنہوں نے تائی پے میں منعقدہ کمپیوٹیکس نمائش کے دوران مارویل ٹیکنالوجی کو ’اگلی ایک ٹریلین ڈالر مالیت والی کمپنی‘ قرار دیا۔
اسپیس ایکس کی تاریخی شیئر فروخت کی تیاریدوسری جانب خلائی ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس آئندہ ہفتے ایک بڑی ابتدائی عوامی شیئر فروخت (آئی پی او) کی تیاری کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کمپنی 55 کروڑ 56 لاکھ حصص فی شیئر 135 ڈالر کی متوقع قیمت پر فروخت کر کے تقریباً 75 ارب ڈالر جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
شرح سود میں اضافے کی توقعاتامریکی معیشت سے متعلق تازہ اعداد و شمار نے یہ اشارہ دیا ہے کہ ملازمتوں کی طلب اب بھی مضبوط ہے اور معیشت کو فوری طور پر شرح سود میں کمی کی ضرورت نہیں۔
اپریل میں امریکا میں نئی ملازمتوں کے مواقع 5 برسوں کی بلند ترین رفتار سے بڑھے، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے شرح سود میں کمی کی توقعات مزید کم کر دی ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر آنے والے روزگار کے اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے تو امریکی مرکزی بینک فیڈرل ریزرو مستقبل میں شرح سود مزید بڑھا سکتا ہے، جس سے امریکی ڈالر کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔
ادائیگیوں کے ادارے کور پے کے ایشیا پیسیفک کرنسی اسٹریٹجسٹ پیٹر ڈراگیسیوچ کے مطابق 2026 کے ابتدائی مہینوں میں امریکی معیشت کی رفتار بہتر ہونے کے آثار ہیں، جس کے نتیجے میں روزگار کے اعداد و شمار مارکیٹ کی موجودہ توقعات سے زیادہ مضبوط آ سکتے ہیں۔
عالمی کرنسی منڈیوں کی صورتحالغیر ملکی زرِ مبادلہ کی منڈیوں میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا۔ یورو 1.1627 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ امریکی ڈالر 159.86 ین کی سطح پر برقرار رہا۔
ادھر آسٹریلیا کے معاشی اعداد و شمار سے ظاہر ہوا کہ مارچ کی سہ ماہی کے دوران ملکی اقتصادی ترقی کی رفتار سست رہی۔ اگرچہ ڈیٹا سینٹرز میں سرمایہ کاری بڑھی، لیکن درآمدات میں اضافے نے مجموعی نمو پر دباؤ ڈالا۔ اس کے باوجود آسٹریلوی ڈالر 0.7177 امریکی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایران امریکا جنگ کرپٹو کرنسی