پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حج و عمرہ ادائیگی، علما اور مدارس کے طلبا میں تبادلے بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2025 GMT
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حج و عمرہ ادائیگی، علما اور مدارس کے طلبا میں تبادلے بڑھانے پر اتفاق WhatsAppFacebookTwitter 0 13 February, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )پاکستان اور ترکیہ کے درمیان حج اور عمرہ کی ادائیگی کیلئے تعاون بڑھانے، جدید عصری تعلیم کے فروغ کیلئے علما کرام اور مدارس کے طلبا کے تبادلوں کو بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مذہبی امور اور مذہبی تعلیم کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے۔وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی چوہدری سالک حسین اور ترکیہ کے مذہبی امور کے وزیر ڈاکٹر علی ارباش نے ایم او یو پر دستخط کیے۔
پاکستان اور ترکیہ نے حج اور عمرہ کی ادائیگی کیلئے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک شدت پسندی، دہشت گردی اور فرقہ واریت کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی بنائیں گے۔ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان جدید عصری تعلیم کے فروغ کیلئے علما کرام اور مدارس کے طلبا کے تبادلوں کو بڑھایا جائے گا۔ اماموں، خطیبوں اور مبلغین کی مہارتوں کو بہتر بنانے کے لیے تربیتی کورسز اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ انہیں سائنسی، مذہبی اور ثقافتی طور پر اہل بنایا جاسکے۔
بین المذاہب ہم آہنگی اور عالمی امن کے فروغ اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کیلئے دیگر مسلم ممالک کے ساتھ تعاون بڑھایا جائے گا۔ اسلامی ثقافت کو پھیلانے اور اعتدال پسندی کے تصور کو فروغ دینے کے لیے مسلم ممالک کے ساتھ مل کر اقدامات کیے جائیں گے۔ اسلامی ورثے اور ثقافت کو زندہ رکھنے اور محفوظ رکھنے کے لیے مطبوعات اور تحقیق کا تبادلہ کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اور مدارس کے طلبا بڑھانے پر اتفاق کے فروغ جائے گا کے لیے
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔