ٹرمپ کی دھمکی کے بعد کینیڈا کے جھنڈوں کی فروخت میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, February 2025 GMT
ٹرمپ کی دھمکی کے بعد کینیڈا کے جھنڈوں کی فروخت میں اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 15 February, 2025 سب نیوز
نیویارک: امریکی صدر ٹرمپ کی کینیڈا کو امریکہ کی 51 ویں ریاست بنانے کی دھمکی کے بعد منفرد عمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کینیڈا میں ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد وہاں جھنڈوں کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی صدر کی دھمکی کے بعد کینیڈا میں جھنڈوں کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوگیا ہے، کینیڈین شہریوں نے ملک سے محبت کا اظہار کرتے ہوئے ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے جھنڈوں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق کینیڈین پرچم ساز کمپنی ’فلیگ ان لمیٹڈ‘ کی فروخت ایک سال پہلے کے مقابلے میں دگنی ہو گئی ہے، کمپنی کے مالکان نے کہا کہ پڑوسی ملک امریکا کے ساتھ تناؤ نے حب الوطنی کی لہر کو ہوا دی ہے۔
ٹرمپ کی کینیڈا کو ہتھیانے کی دھمکی حقیقت پر مبنی ہے، جسٹن ٹروڈو کی وارننگ
رپورٹ کے مطابق آج 15 فروری کینیڈا کے قومی پرچم کا دن ہے، جس سے قبل ہی جھنڈوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا، یہ دن اوٹاوا میں میپل کے سرخ اور سفید پتے والے جھنڈے کے آغاز کی 60 ویں سالگرہ کے طور پر منایا جا رہا ہے۔
کینیڈا کا پرچم تیار کرنے والی کمپنی کے شریک مالک میٹ اسکپ نے بتایا کہ یہ ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال براہ راست ردعمل ہے، کینیڈا کے شہری اپنے پرچم کے پیچھے اتحاد کی علامت کے طور پر ریلی نکال رہے ہیں۔
کینیڈا کے سیاست دانوں کی جانب سے شہریوں سے ملکی قومی پرچم کو اتحاد اور اپنے قومی فخر کا مظاہرہ کرنے کے لیے لہرانے کی اپیل کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: جھنڈوں کی فروخت میں فروخت میں اضافہ کی دھمکی کے بعد کینیڈا کے کی کے بعد ٹرمپ کی
پڑھیں:
اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔