بیجنگ :
“کینیڈا ایک ایسا ملک ثابت ہوا ہے جو بڑے بھائی کی مانند ملک امریکہ کی جانب سے دھوکہ دہی ،دھمکی ،دھونس اور زیادتیاں سہہ رہا ہے ۔” چند روز قبل امریکہ کی جانب سے کینیڈا پر اضافی محصولات کے اعلان کے بعد بینک آف نووا سکوشیا کے ماہر اقتصادیات ڈیرک ہولٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں اسی طرح کے الفاظ لکھے ۔ تاہم، کینیڈا کے سیاست دانوں نے امریکہ کی جانب سے “دھوکہ دہی، دھمکیوں اور زیادتیوں” کا جواب کیسے دیا؟ یہ ایک عجیب صورتحال ہے۔ حال ہی میں کینیڈا کے تمام 13 صوبوں اور علاقوں کے گورنروں پر متشمل وفد نے امریکی قانون سازوں، کاروباری گروہوں اور مزدور رہنماؤں سے ملاقاتوں اور لابنگ کے لئے امریکہ کا دورہ کیا۔لیکن اس سے بھی زیادہ مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ کینیڈا کے ان سیاستدانوں نے “چائنا کارڈ” کھیلتے ہوئے چین کو “مشترکہ معاشی دشمن” کے طور پر پیش کیا۔ ان کوششوں پر بیرونی دنیا نے ا ن کا مذاق اڑایا اور کینیڈا کو اپنے مالک کے آگے دم ہلاتے ہوئے رحم کی بھیک مانگنے والا قرار دیا۔
کینیڈا امریکہ کا سب سے بڑا قریبی ہمسایہ اور اتحادی ہے لیکن امریکہ نے اپنے مفادات کے لئے کینیڈا پر زیادتیاں کرنے، اسے دباؤ میں لینے ا ور اس کی تذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور میں کینیڈا ان اولین ممالک میں سے ایک تھا جس پر محصولات کی دھمگی دی گئی تھی۔ ٹرمپ کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد، انہوں نے بار ہا کینیڈا کے امریکہ سے الحاق اور اسے امریکہ کی اکیاونویں ریاست بنانے کی دھمکی دی اور کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو ” امریکی ریاست کا گورنر” کہہ کر بار بار ان کا مذاق اڑایا۔
گزشتہ ایک سال کے دوران کچھ مغربی ممالک نے چین کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا انتخاب کیا ہے لیکن چین اور کینیڈا کے تعلقات ابھی تک اس “رکاوٹ” کو عبور نہیں کر سکے ۔ مسئلے کی جڑ اس حقیقت میں ہے کہ کینیڈین سیاست دان اب بھی صرف امریکہ کی طرف دیکھنے کی غلامانہ ذہنیت رکھتے ہیں۔ کینیڈا اپنی آزادی اور خود اعتمادی کھو چکا ہے ،لیکن اس سب کے باوجود بھی اسے امریی خطرے سے آزادی حاصل نہیں ہوئی ۔صرف اتنا ہی نہیں ، اس پالیسی سے کینیڈا نہ صرف چین کے ساتھ تعاون کا قیمتی موقع کھو چکا ہے بلکہ اس کی یہ سوچ اور عمل اس کی جگ ہنسائی کا بھی باعث بنی ہے ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ

میکسیکو کی معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر پاؤلا مارکیز اپنے گھر میں مردہ حالت میں پائی گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 30 سالہ پاؤلا مارکیز کی لاش 30 مئی کو ان کے گھر کے اندر سے اس وقت برآمد ہوئی جب ایک اہلِ خانہ نے انہیں بے ہوش حالت میں پایا۔ بعد ازاں طبی عملے نے موقع پر ہی ان کی موت کی تصدیق کر دی۔

ابتدائی تحقیقات میں پولیس مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے جن میں خودکشی اور ممکنہ قتل دونوں امکانات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے تمام شواہد کا باریک بینی سے تجزیہ کیا جا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق پاؤلا مارکیز سوشل میڈیا پر خاصی مقبول تھیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر ان کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی۔ وہ زیادہ تر لائف اسٹائل، سفر اور پرتعیش زندگی سے متعلق مواد شیئر کرتی تھیں۔

ان کی ایک حالیہ ٹک ٹاک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں انہوں نے اپنی زندگی سے متعلق مایوس کن انداز میں گفتگو کی تھی۔ ویڈیو میں ان کا کہنا تھا کہ ’’میں نے جو کچھ چاہا وہ مانگا، لیکن شاید الٹا مانگا، کیونکہ جو تھوڑا بہت میرے پاس تھا وہ بھی ہاتھ سے نکل رہا ہے۔‘‘

افسوسناک خبر کے بعد ان کے والد ہیرکولیس مارکیز بالڈیرس نے فیس بک پر جذباتی پیغام میں اپنی بیٹی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ان کی ’’پیارا بیٹی پاؤلا اب اس دنیا میں نہیں رہی‘‘ اور وہ دعا گو ہیں کہ اللہ انہیں بہترین مقام عطا کرے۔

والد کی پوسٹ پر صارفین کی جانب سے تعزیتی پیغامات کا سلسلہ بھی جاری رہا، جہاں مداحوں اور قریبی افراد نے اہلِ خانہ سے ہمدردی اور صبر کی دعا کی۔ بعد ازاں اہلِ خانہ نے تصدیق کی کہ پاؤلا مارکیز کی آخری رسومات یکم جون کو سان لوئیس پوٹوسی کے علاقے ہویچی ہوان میں ادا کی گئیں۔

پاؤلا مارکیز نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹوں میں دنیا بھر کے سفر، لگژری ٹرپس اور ایونٹس کی جھلکیاں شیئر کرکے بڑی شہرت حاصل کی تھی۔ ان کے انسٹاگرام بائیو میں درج ایک جملہ ’’انسٹاگرام اصل زندگی نہیں ہے‘‘ بھی ان کی سوچ کی عکاسی کرتا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل