پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن کے تحت مہم کا آغاز
اشاعت کی تاریخ: 17th, February 2025 GMT
پاکستان فوڈ ورکرز فیڈریشن نے نیشنل ٹی ورکرز یونین کی حمایت میں ملک گیر کمپین شروع کر دی۔ خانیوال میں پی ایف ڈبلیو ایف کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں جنرل سیکرٹری خائستہ رحمان نے اعلان کیا کہ لپٹن انتظامیہ کے ساتھ مقامی اور عالمی سطح پر ملاقاتوں کے باوجود معاملات حل نہیں ہوئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ Cruel-Tکمپین کا نعرہ Premium Brand-Inferior Rights ہوگا۔
اجلاس کے دوران پی ایف ڈبلیو ایف نے ایک قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ نیشنل ٹی ورکرز یونین نے گزشتہ سال اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ مذاکرات کے بجائے لپٹن پاکستان کی انتظامیہ نے بد نیتی کا مظاہرہ کیا اور خانیوال فیکٹری میں ہمارے ممبران کے اجتماعی سودے بازی کے حقوق کو پامال کیا۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ یونین پر دباؤ ڈالنے کے لیے انتظامیہ نے کینٹین کا یکطرفہ مینو تبدیل کرنے سمیت غیر قانونی کارروائیاں شروع کیں، متعدد ورکرز کو جبری چھٹی پر بھیج دیا گیا، یونین آفیسر کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا اور ورکرز اور یونین افسران کو دھمکیاں دی گئیں۔ یونین کے ارکان نے احتجاج شروع کر دیا اور یونین نے قانون کے مطابق انتظامیہ کو ہڑتال کا نوٹس دیا اور معاملہ مفاہمت کے عمل میں ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پی ایف ڈبلیو ایف نیشنل ٹی ورکرز یونین کی حمایت میں قومی سطح پر کمپین شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ بھی اعلان کیا گیا کہ PFWF کے جنرل سیکرٹری آئندہ IUF-Lipton اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے جو 20 فروری 2025 کو جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں شیڈول ہے۔
پی ایف ڈبلیو ایف نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ لپٹن انتظامیہ ہمارے مطالبات کو پورا کرے:ـ
ـ-1 سالانہ اضافہ کی بحالی۔
-ـ2 چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری۔
-3 MOU 2023 کا نفاذ۔
-ـ4 گیلپ سروے کی شکایات کی تحقیقات۔
-ـ5 پراویڈنٹ فنڈ آڈٹ اور شفافیت۔
-ـ6 ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد عثمان کے خلاف شوکاز نوٹس واپس لیا جائے۔
-ـ7 غیر قانونی فورس ڈیوٹی روسٹر کا خاتمہ۔
-ـ8 پرانے کینٹین مینو کی بحالی
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔