سعودیہ کا موخر ادائیگی پر 10 کروڑ ڈالرکی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 18 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد (آئی پی ایس )سعودی عرب نے موخر ادائیگی پر10 کروڑ ڈالرکی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی کابینہ کو وزارتوں میں ای آفس کے نفاذ پر بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ 39 ڈویژنز میں ای آفس کا نفاذ 100 فیصد مکمل ہوچکا ہے۔

وزیراعظم نے سرکاری اداروں میں ڈیجیٹائزیشن مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ وفاقی کابینہ نے اقوام متحدہ کے سمندری وسائل کے معاہدے پردستخط کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے کامران جہانگیر کی بطور ایم ڈی نیشنل بک فانڈیشن تعیناتی، نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق میں ممبر تعیناتی کیلئے 6 ناموں اور صومالیہ کے نیشنل آئیڈینٹٹی سسٹم کے معاہدے میں توسیع کی منظوری دی۔

کابینہ نے ڈاکٹرشاہد اسلم مرزا کی بطورایم ڈی کورنگی فشریزہاربراتھارٹی تعیناتی، پاکستان انجینیئرنگ کونسل کے انتخابات میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے کمیشن بنانے کی منظوری دی۔وزیراعظم نے کابینہ کو سعودی ولی عہد کے خط سے بھی آگاہ کیا۔ سعودی عرب نے موخر ادائیگی پر10 کروڑ ڈالرکی ماہانہ پیٹرولیم مصنوعات فراہمی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی حمایت پر اظہار تشکر کیا اور کہا کہ سعودی عرب ہرمشکل وقت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: موخر ادائیگی پر

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • سرکاری ملازمین کے سفری اور تفریقی الاؤنس میں اضافے کی منظوری، نئی شرحیں جاری
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ