پارٹی پالیسی پر عمل نہ کرنیوالے اراکین اسمبلی کو فارغ کیاجائے گا، سلمان اکرم راجہ WhatsAppFacebookTwitter 0 19 February, 2025 سب نیوز

اسلام آباد(سب نیوز)پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ شیر افضل مروت کو پارٹی سے نکالنے کا فیصلہ عمران خان کا تھا، پیکا قانون اور 26 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پارٹی پالیسی پر عمل نہ کرنیوالے اراکین اسمبلی کو پارٹی سے فارغ کیا جائے گا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جن اراکین نے پیکا قانون پر پارٹی پالیسی پر عمل نہیں کیا، جن اراکین نے 26 ویں آئینی ترمیم کے بل کے حوالے سے مشکوک کردار ادا کیا، ان کے خلاف پارٹی پالیسی کے تحت کارروائی ہوگی، انہیں پارٹی سے فارغ کیا جائے گا۔

پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما نے کہا کہ شیر افضل مروت نے سعودی حکومت کے حوالے سے بیان دیا، جو ان کا استحقاق نہیں تھا، ان کے اس بیان سے ہمیں بہت نقصان پہنچا۔انہوں نے کہا کہ پارٹی میں کسی کو بدزبانی کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے، ٹی وی پر میرے اور دیگر رہنمائوں کے خلاف نازیبا گفتگو کی گئی، جس سے پارٹی کا ںظم وضبط خراب ہوا، تاہم پارٹی میں کوئی انتشار نہیں ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ فواد چوہدری جیسے غیر اہم لوگ اپنے وجود کو ظاہر کرنے کے لئے الٹے سیدھے بیانات دیتے رہتے ہیں، ملک میں اس فسطائیت کا راج ہے، عمران خان کے خلاف سیکڑوں جھوٹے مقدمات بنا دیئے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ جتھا لے کر جائیں اور بانی پی ٹی آئی کو چھڑا کر لے آئیں گے، ہم عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں، میدان میں بھی احتجاج کریں گے۔سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ احسان مانی نے کہا ہے کہ آئی سی سی انٹرنیشنل کرکٹ کے حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، بھارتی کرکٹ ٹیم کے چمیپئنز ٹرافی کے لئے نہ آنے پر پاکستان کو درست وقت پر آواز اٹھانا چاہیے تھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں لانے کے لئے آئی سی سی کو فعال کردار ادا کرنا چاہیے تھا، پی سی بی بھی چمیپئنز ٹرافی کے حوالے پلاننگ نہیں کرسکا۔اسپورٹس تجزیہ کار ڈاکٹر نعمان نیاز نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے زیادہ تر معاملات سیاسی ہیں، دوںوں ملکوں کا سیاسی بیانیہ ناجانے کب تبدیل ہوگا، آئی سی سی چمیپئنز ٹرافی کے پاکستان میں انعقاد کا کریڈٹ پی سی بی کو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کا پاکستان نہ آنا دراصل کرکٹ کا نقصان ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کیعوام کرکٹ کو پسند کرتے ہیں اور کرکٹ ہی دلوں کو جوڑتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پارٹی پالیسی پر عمل نہ سلمان اکرم راجہ انہوں نے کہا کہ کے حوالے سے فارغ کیا

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • چلاس: پی ٹی آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری سلمان اکرم راجا کو دیامر میں روک لیا گیا
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے