اسحاق ڈار کی یو این سیکرٹری جنرل سے ملاقات‘ سرحد پار دہشت گردی و دیگر امور پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 20th, February 2025 GMT
نیویارک (اے پی پی):نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس سے ملاقات کی۔ دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم نے اس موقع پر امن و سلامتی، ترقی اور موسمیاتی تبدیلی سمیت عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کے لئے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 2025 ء اور 2026ء میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے غیر مستقل رکن کی حیثیت سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو فروغ دینے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کے ساتھ ساتھ کثیرالجہتی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے لیے پاکستان کی دیرینہ وابستگی بشمول اقوام متحدہ کی امن کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے سمٹ آف دی فیوچر کے انعقاد کے اقدام کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ پیکٹ فار دی فیوچر کے لیے معاہدے کو مکمل طور پر نافذ کیا جائے گا، جو پائیدار ترقی اور موسمیاتی اہداف کو نافذ کرنے کے لئے ترقی پذیر ممالک کی مالیاتی ضروریات کو پورا کرے گا۔ نائب وزیر اعظم نے تنازعہ جموں و کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق منصفانہ انداز سے حل کرنے پر زور دیا۔ فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیل کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے نائب وزیر اعظم نے دو ریاستی حل کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا جس میں 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مبنی ایک قابل عمل، متصل اور خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ نائب وزیر اعظم نے سرحد پار افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی کو بھی اجاگر کیا اور افغانستان کے اندر سے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت پر زور دیا۔ انہوں نے افغانستان میں لاکھوں بے سہارا لوگوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کرنے اور اس کی اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کی پاکستان کی خواہش کا بھی اعادہ کیا جس میں افغانستان کے راستے وسطی ایشیا اور پاکستان کے درمیان رابطے کے منصوبوں پر عمل درآمد بھی شامل ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے نائب وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں پاکستان کی فعال شمولیت کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کے امن مشن میں کردار ادا کرنے پر شکریہ ادا کیا۔نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں شرکت کے لئے نیویارک کے دورے پر ہیں جو چین نے سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران بلایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سلامتی کونسل پاکستان کی سلامتی کو کے لئے کے لیے
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔