راچن رویندرا کا موبائل چوری! بھارت کا پاکستان کیخلاف نیا پروپیگنڈا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, February 2025 GMT
بھارتی میڈیا ایک مرتبہ پھر پاکستان سے حسد میں جھوٹی خبریں پھیلانے لگا۔
آئی سی سی چیمپئینز ٹرافی کا پاکستان میں انعقاد بھارتی میڈیا کو ایک آنکھ نہیں بھارہا، انڈین میڈیا نے نیوزی لینڈ کے اوپنر راچن رویندرا کے موبائل چوری ہونے کی خبریں نشر کردیں۔
سہ ملکی سیریز میں انجری کا شکار ہونیوالے اوپنر راچن رویندرا چیمپئینز ٹرافی کا پہلا میچ کھیلنے سے قاصر رہے تھے۔
مزید پڑھیں: پاک بھارت میچ اروشی روٹیلا 24 قیراط گولڈ والے آئی فون سے محروم ہوگئیں
اوپنر دوران فیلڈنگ چہرے پر گیند لگنے کے باعث میچ سے باہر ہوگئے تھے جس کا الزام بھارتی میڈیا نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹھہرایا تھا کہ اسٹیڈیم کی اَپ گریڈیشن کے دوران لائٹس کا انتظام اچھا نہیں جس کے باعث کرکٹر زخمی ہوئے۔
مزید پڑھیں: چوٹ راچن رویندرا کی درد بھارت کو! چیمپئینز ٹرافی منتقل کرنے پر اصرار
اب بھارتی میڈیا نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بغیر تصدیق خبر چلائی ہے کہ کیوی اوپنر راچن رویندرا کا لاہور کے اسپتال سے فون چوری ہوگیا، تاہم یہ خبر جھوٹی نکلی۔
ہندوستان کا ایک معروف میڈیا آؤٹ لیٹ فرسٹ پوسٹ نے بغیر تصدیق خبر چلائی تاہم پاکستانی صحافی نے انکا بھانڈا پھوڑتے ہوئے خبر کو پروپیگنڈا اور جھوٹا قرار دیا۔
مزید پڑھیں: سہ ملکی سیریز؛ راچن رویندرا چہرے پر گیند لگنے سے زخمی، ویڈیو وائرل
لینڈ کرکٹ ٹیم کے منیجر نے کرکٹر کے موبائل فون چوری ہونے والی خبروں کی بھی تردید کی۔
مزید پڑھیں: "بابراعظم کو کچھ کہا تو غدار کہلاؤں گا"
خیال رہے کہ 2023 ورلڈکپ کے دوران بھارت میں مشہور اداکارہ اروشی روٹیلا پاک بھارت میچ کے دوران اپنے موبائل فون سے ہاتھ دھو بیٹھی تھیں تاہم بھارتی میڈیا نے اس پر خاموشی اختیار کرلی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی میڈیا راچن رویندرا مزید پڑھیں میڈیا نے
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔