’شاہین، نسیم اور حارث کو خدا حافظ کہنے کا وقت آگیا، سابق کپتان محمد حفیظ
اشاعت کی تاریخ: 24th, February 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک)پاکستان کے سابق کپتان محمد حفیظ نے آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی 2025 اور خصوصاً بھارت کے حالیہ میچ میں خراب کارکردگی کے بعد ٹیم کے تیز رفتار بولرز شاہین آفریدی، نسیم شاہ اور حارث رؤف کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان تینوں سے آگے بڑھ جائے اور دوسرے بولرز کو موقع دے۔
ایک مقامی اسپورٹس شو سے خطاب کرتے ہوئے محمد حفیظ نے نشاندہی کی کہ یہ تینوں فاسٹ بولرز پچھلے 2 سالوں سے بڑے ٹورنامنٹس میں کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
’پاکستان دوسرے آپشنز دیکھے‘
محمد حفیظ نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، اور حارث رؤف کی تینوں ٹیمیں 2023 کے ایشیا کپ، ورلڈ کپ، ٹی 20 ورلڈ کپ، اور اب چیمپیئنز ٹرافی 2025 میں بھی کوئی کارکردگی دکھانے میں ناکام رہے۔
انہوں نے ملک پر زور دیا کہ اسے بولنگ کے دیگر آپشنز کو دیکھنا شروع کر دینا چاہیے۔
آپشنز کیا ہیں؟
محمد حفیظ نے کہا کہ یہ تسلیم کرنے کا وقت آگیا ہے کہ اپنی صلاحیتوں کے باوجود شاہین، نسیم اور حارث نے خود کو پاکستان کے لیے بڑے ٹورنامنٹس جیتنے کے قابل ثابت نہیں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’آئیے آگے بڑھیں اور محمد علی، خرم شہزاد، محمد وسیم جونیئر، عاکف جاوید اور میر حمزہ جیسے دیگر بولرز کو موقع دیں اور یہ کھلاڑی اپنی باری کے منتظر بھی ہیں اور مستحق بھی‘۔
محمد حفیظ
’10 سال سے کھیلنے والے بابر اعظم ضرورت کے وقت کچھ نہ کرسکے‘
محمد حفیظ نے بابر اعظم کی اہم میچوں میں خاص طور پر بھارت کے خلاف کارکردگی دکھانے میں ناکامی پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بابر اعظم گزشتہ 10 سالوں سے پاکستان کے لیے کھیل رہے ہی، پھر بھی وہ ہندوستان کے خلاف ایک بھی فتح حاصل کرنے میں پاکستان کی مدد نہیں کر سکے۔
قومی بولنگ اٹیک کی کارکردگی
یاد رہے کہ نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف پاکستان کے گروپ مرحلے کے دونوں میچوں میں شاہین، نسیم اور حارث کے بولنگ اسپیل مہنگے ثابت ہوئے اور تینوں نے نے زیادہ رنز بنائے۔
شاہین آفریدی کی بولنگ کی حالت
شاہین آفریدی دونوں میچوں میں مہنگے ثابت ہوئے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف، انہوں نے 10 اوورز کرائے اور 68 رنز دیے جبکہ کوئی وکٹ لینے میں ناکام رہے۔
بھارت کے خلاف شاہین آفریدی نے 8 اوورز میں 2 وکٹیں حاصل کیں لیکن 9.
نسیم شاہ کی صورتحال
نسیم شاہ کی کارکردگی ملی جلی رہی۔ وہ نیوزی لینڈ کے خلاف 10 اوورز میں 63 رنز دے کر 2 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔ تاہم بھارت کے خلاف وہ 8 اوورز میں 37 رنز دے کر ایک بھی وکٹ نہ لے سکے۔
حارث رؤف تینوں سے ’آگے‘
حارث رؤف تینوں میں سب سے مہنگے رہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف انہوں نے 10 اوورز میں 83 رنز دے کر 2 وکٹیں حاصل کیں۔ بھارت کے خلاف میچ میں انہوں نے 7 اوور کیے اور ایک بھی وکٹ نہ لے سکے جبکہ 52 رنز دے دیے۔
دفاعی چیمپیئن و میزبان پاکستان 2 میچ کے بعد مقابلے سے باہر؟
نیوزی لینڈ اور بھارت کے خلاف پے در پے شکستوں کے بعد ٹورنامنٹ کے میزبان پاکستان اور دفاعی چیمپیئن کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے امکانات معدوم ہوچکے ہیں۔
دفاعی چیمپیئن پاکستانی ٹیم اب اپنا آخری گروپ میچ بنگلہ دیش کے خلاف 27 فروری کو راولپنڈی میں کھیلے گی۔
بالفرض قومی ٹیم نے بنگلہ دیش کو ہرا بھی دیا تب بھی وہ جیت اس کے لیے جیت کافی نہیں ہو سکتی کیونکہ معاملہ اب دوسری ٹیموں کے نتائج پر ہے لیکن لگتا یہی ہے اب وہ ’غیبی امداد‘ بھی کام نہیں کرے گی۔
مزیدپڑھیں:’پاکستان ٹیم میں 6 سے 8 کھلاڑیوں کا ٹولہ گروپنگ کرتا ہے‘
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: بھارت کے خلاف محمد حفیظ نے نیوزی لینڈ پاکستان کے اوورز میں نسیم شاہ اور حارث انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
قونصلر صائمہ سلیم— فائل فوٹواقوامِ متحدہ میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے سلامتی کونسل میں بھارت کو لاجواب کر دیا۔
اپنے بیان میں صائمہ سلیم نے کہا ہے کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ ایک طرف سیاسی آزادی ہے اور دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے، حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستانی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ افغان سرزمین سے حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا، جموں و کشمیر نہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ، بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت تبدیل نہیں کر سکتا۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ بھارت خود مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل میں لایا اور آج قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں جبر اور انسانی حقوق کی پامالیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سندھ طاس معاہدے کی معطلی کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے، دریائے سندھ کا پانی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔
صائمہ سلیم نے یہ بھی کہا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک عالمی سطح تک پھیل چکے ہیں، بھارت میں ہندوتوا نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی بنا دیا ہے۔