Express News:
2026-06-03@02:04:33 GMT

جرمن فٹبالر میسوٹ اوزل نے ترک صدر کی پارٹی کو جوائن کرلیا

اشاعت کی تاریخ: 25th, February 2025 GMT

جرمنی اسٹار فٹبالر میسوٹ اوزل نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو جوائن کرکے سیاست میں قدم رکھ دیا۔

جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ 37 سالہ سابق جرمن فٹبالر حکمران پارٹی کی سینٹرل کونسل کے ممبر منتخب ہوئے ہیں۔

ریال میڈرڈ اور آرسنل جیسے بڑے فٹبال کلبز کیساتھ منسلک رہنے والے اسٹار فٹبالر اوزل کی ترک صدر رجب طیب اردوان کی الیکشن میں حمایت نے اس بات کا اشارہ دیا تھا کہ اسٹر فٹبالر جلد سیاست کے میدان میں حکمراں جماعت کے پلیٹ فارم کو جوائن کرلیں گے۔

مزید پڑھیں: سال 2024 سب سے زیادہ پیسے کِس کھلاڑی نے کمائے؟ فہرست جاری، مداح حیران

میسوٹ اوزل 15 اکتوبر 1988 کو مغربی جرمنی کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ترک نژاد خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔

میسوٹ اوزل کے فٹبالر بننے سے قبل ان کے والد لوہار تھے جبکہ وہ اپنی جوانی کے دور میں مرغی سے بنی اشیاء (چکن پروڈکٹس) فروخت کیا کرتے تھے۔

اوزل نے فروری 2009 میں ناروے کے خلاف فرینڈلی میچ سے انٹرنیشنل کریئر کا آغاز کیا تھا جبکہ وہ 2011، 2012، 2013 اور 2015 میں جرمنی کے بہترین پلیئر بنے کا اعزاز بھی حاصل کرچکے ہیں۔

مزید پڑھیں: کرسٹیانو رونالڈو جلد ایک منٹ کے 300 پاؤنڈ کمائیں گے

جرمن ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے میسوٹ اوزل نے 92 میچز میں 30 گول اسکور کیے۔

اسٹار فٹبالر نے 2018 میں فٹبال ایسوسی ایشن کے رویے سے دلبرداشتہ ہوئے اور انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔

مزید پڑھیں: رونالڈو کے نام نیا اعزاز؛ 700 فتوحات پانے والے "پہلے فٹبالر"

ترک نژاد جرمن فٹبالر نے انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک طویل پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے نسلی منافرت پر مبنی رویے کا ذکر کیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: میسوٹ اوزل اوزل نے

پڑھیں:

بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا

بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔

میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔

مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔

یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔

        View this post on Instagram                      

تاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔

حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • حکمران ہم سے خوفزدہ، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا