عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو چھانٹیوں سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, February 2025 GMT
امریکا کی عدالت نے وزارت دفاع سمیت سرکاری اداروں سے ملازمین کی بڑے پیمانے پر چھانٹیاں ممکنہ غیر قانونی قرار دیدی، ٹرمپ انتطامیہ کو ملازمین برخاست کرنے سے روک دیا گیا۔
وفاقی عدالت کے جج ولیم Alsup نے پرسنل مینجمنٹ سے متعلق دفتر کو حکم دیا ہے کہ وہ پروبیشنری سرکاری ملازمین کی چھانٹیوں سے متعلق 20 سے زائد اداروں کو جاری احکامات منسوخ کرے۔
امریکا میں تقریباً دو لاکھ ملازمین پروبیشنری ملازم ہیں، لیبر یونین نے سان فرانسسکو کی عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملازمین کیخلاف یہ اقدام ممکنہ طورپر غیر قانونی ہے۔
جج نے کہا کہ کانگریس نے محکمہ دفاع سمیت مختلف اداروں کو اختیار دیا ہے کہ وہ ملازمین کو بھرتی یا برطرف کریں، اس لیے پرسنل مینجمنٹ کے دفتر کو کسی صورت بھی یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی دوسرے ادارے کے اہلکاروں کو نوکری دے یا فارغ کردے۔
یونین کا کہنا تھا کہ ایسے ملازمین بھی فارغ کردیے گئے ہیں جن کے سینئرز نے انہیں بہترین ملازم قرار دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔