امریکا نے اسرائیل کو 3 ارب ڈالر کا اسلحہ اور بلڈوزرز فروخت کرنے کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 1st, March 2025 GMT
امریکا نے اسرائیل کو 3 ارب ڈالر کا اسلحہ اور بلڈوزرز فروخت کرنے کی منظوری دیدی WhatsAppFacebookTwitter 0 1 March, 2025 سب نیوز
واشنگٹن:امریکا نے اسرائیل کو 3 ارب ڈالر کا اسلحہ اور بلڈوزرز فروخت کرنے کی منظوری دے دی۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے جمعہ کے روز 3 ارب ڈالر کا اسلحہ، بلڈوزرز اور دیگر آلات اسرائیل کو فروخت کرنے کی منظوری دی جن میں غزہ پر استعمال ہونے والا امریکی ساختہ اسلحہ بھی شامل ہے۔
امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کا کہنا ہےکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اسرائیل کو 2.
امریکی ایجنسی کے مطابق وزیر خارجہ اسرائیل کو مزید اسلحہ کی فروخت کے لیے پرعزم ہیں جس کی انہوں نے تفصیلی وضاحت دیتے ہوئے اسے اسرائیلی حکومت کی فوری ضرورت قرار دیا اور کہا کہ اسرائیل کو ڈیفنس سروسز اور دیگر چیزوں کی فراہمی امریکا کے قومی مفاد میں ہے۔
امریکی ڈیفنس ایجنسی کا کہنا ہےکہ امریکا اسرائیل کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور یہ امریکی قومی سلامتی کے لیے انتہائی اہم ہےکہ اسرائیل کو اس کے دفاع کے لیے نہ صرف تیار کیا جائے بلکہ اس کی صلاحیتوں کو بھی بڑھایا جائے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ کی مزید فروخت سے قبل بھی واشنگٹن اسے 7.4 ارب ڈالر کے بم اور دیگر آلات کی فراہمی کی منظوری دے چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فروخت کرنے کی منظوری ارب ڈالر کا اسلحہ نے اسرائیل کو اور دیگر ڈالر کے کے لیے
پڑھیں:
امریکا نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقاتی و تعلیمی اداروں پر پابندی لگادی
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایران، روس اور چین کے 130 تحقیقی اور تعلیمی اداروں پر پابندی عائد کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق پینٹاگون نے اداروں کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ حساس ٹیکنالوجی کی غیر مجاز منتقلی کے خطرات سے متعلق تشویش کا باعث ہیں۔
پینٹاگون کے مطابق فہرست میں شامل ان اداروں کو امریکی قوانین کے تحت دفاعی تحقیق اور حساس ٹیکنالوجی کے تبادلوں کے تناظر میں خصوصی پابندیوں اور نگرانی کے دائرے میں رکھا گیا ہے۔
اس اقدام کا مقصد امریکی دفاعی ٹیکنالوجی اور حساس تحقیق کے غیر مجاز یا غیر مطلوبہ منتقلی کو روکنا بتایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اس کا عملی دائرۂ کار امریکی قوانین کے تحت دفاعی تعاون، فنڈنگ اور ٹیکنالوجی کی منتقلی پر مخصوص پابندیوں سے متعلق ہے۔