ویمنز ون ڈے رینکنگ، نشرح سندھو 10ویں پوزیشن پر پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
آئی سی سی ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ کا ابتدائی مرحلہ مکمل ہونے پر نئی ویمنز ون ڈے رینکنگ جاری کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان کی نشرح سندھو بہترین کارکردگی کے باعث 10ویں پوزیشن پر پہنچ گئیں۔
انگلینڈ کی سوفی ایکلیسٹون بدستور سرفہرست ہیں، آسٹریلیا کی ایلانا کنگ 7 وکٹ کی شاندار کارکردگی کے بعد دوسرے نمبر پر آگئیں۔
بیٹنگ میں بھارت کی سمرتی مندھانا نے ٹاپ پوزیشن مستحکم کرلی جبکہ 6 درجے ترقی نے ایشلی گارڈنر کو دوسری پوزیشن پر پہنچا دیا۔
جنوبی افریقی کپتان لورا وولوارٹ 2 درجے ترقی سے تیسرے نمبر پر براجمان ہوگئیں۔
پاکستان کی سدرہ امین ایک درجے تنزلی کے بعد 12 ویں نمبر پر چلی گئیں، عالیہ ریاض کو 5 درجے تنزلی نے 50 ویں نمبر پر دھکیل دیا۔
An intense week of #CWC25 had big implications on ICC Women's ODI Player Rankings ????
More ➡️ https://t.
— ICC (@ICC) October 29, 2025
انگلینڈ کی ایمی جونز ٹاپ 10 میں شامل ہو گئیں، اینابیل سدرلینڈ 16 درجے ترقی کے ساتھ 16ویں پوزیشن پر پہنچ گئیں۔
آل راؤنڈرز کی فہرست میں ایشلی گارڈنر بدستور پہلی پوزیشن پر ہیں، جنوبی افریقہ کی مریزانے کیپ نے ویسٹ انڈیز کی ہیلی میتھیوز کو پیچھے چھوڑ کر دوسری پوزیشن سنبھال لی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پوزیشن پر
پڑھیں:
دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا
کراچی : دیو ہیکل بحری جہاز ‘ایم ایس سی ڈیلیٹا ‘ کراچی پورٹ پر لنگر انداز ہوگیا ، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔تفصیلات کے مطابق دنیا کا دیو ہیکل کنٹینر بحری جہاز "ایم ایس سی ڈینلیٹا” کامیابی کے ساتھ کراچی پورٹ پہنچ گیا ہے اور کے پی ٹی کے مخصوص ٹرمینل پر لنگر انداز ہوگیا۔کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ یہ بحری جہاز اپنی نوعیت اور حجم کے اعتبار سے انتہائی وسیع ہے، جو بندرگاہ کے عالمی معیار کے انفراسٹرکچر اور آپریشنل صلاحیت کا واضح ثبوت ہے۔کے پی ٹی کا کہنا تھا کہ 400 میٹر طویل اور 67 میٹر چوڑا یہ بحری جہاز 255,288 ڈیڈ ویٹ ٹن گنجائش رکھتا ہے، جو اسے دنیا کے بڑے تجارتی جہازوں میں شامل کرتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ اتنے بڑے جہاز کی آمد اس بات کا مظہر ہے کہ کراچی پورٹ جدید سہولیات اور بڑے بحری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ادارے کے مطابق ایسے بڑے جہازوں کی آمد سے بندرگاہ کی استعداد میں مزید اضافہ ہوگا، عالمی شپنگ کمپنیوں کا اعتماد مضبوط ہوگا اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔