پنجاب اسمبلی میں صوبائی موٹر گاڑیاں آرڈیننس پیش
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251211-08-5
لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب اسمبلی میں صوبائی موٹر گاڑیاں (چوتھا ترمیمی) آرڈیننس 2025ء پیش کر دیا گیا جس کی منظوری پہلے ہی گورنر پنجاب نے دے دی تھی اور اسے حالیہ اجلاس میں ایوان میں پیش کیا گیا۔آرڈیننس کے مطابق مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانے اور سزائوں کی حد مقرر کی گئی ہے۔ کالے شیشے رکھنے، کم عمر بچوں کے موٹر گاڑی چلانے، ون وے گاڑی چلانے اور بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر 6 ماہ تک قید اور 50 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔ ڈرائیور اور مسافر دونوں کے لیے سیٹ بیلٹ پہننا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ آرڈیننس کو اب پنجاب اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا ہے اور اسمبلی کی منظوری کے بعد یہ باقاعدہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا رڈیننس
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔