شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, March 2025 GMT
شہری کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم WhatsAppFacebookTwitter 0 3 March, 2025 سب نیوز
اسلام آباد ( سب نیوز):اسلام آباد ہائی کورٹ نے شہری علی محمد کو غیر قانونی حراست میں رکھنے پر ایس پی سی ٹی ڈی، ایس ایچ او اور دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا۔
تفصیلات کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے علی محمد کے والد کی درخواست پر سماعت کے دوران پولیس کی کارروائی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔
دوران سماعت عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ علی محمد کے سیکشن 164 کے بیان کی کاپی تاحال فراہم نہیں کی گئی۔ ڈی ایس پی لیگل نے عدالت کو بتایا کہ یہ کاپی انہیں موصول نہیں ہوئی۔ جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ آئی جی صاحب کو بتائیں کہ جیسے ہی یہ کاپی موصول ہو، پولیس افسران کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
ڈی ایس پی لیگل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنا دی جائے۔ تاہم عدالت نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’کوئی جے آئی ٹی نہیں، ایک بندہ اگر معاملہ سمجھ سکتا ہے تو تین کی ضرورت نہیں۔‘
عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک ایف آئی آر درج ہو جانی چاہیے، اس کے بعد دیکھا جائے گا کہ تفتیش کس سمت میں جاتی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ اگر ملزمان بے گناہ ہوں گے تو تفتیش میں سب سامنے آ جائے گا۔
انہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ ایف آئی آر درج ہوئے بغیر تفتیش کی گئی ہو؟‘ عدالت نے آئی جی اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی کہ اب تک کیا کارروائی کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل شیر افضل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس افسران اہم عہدوں پر بیٹھے ہیں اور تفتیش بھی انہیں نے ہی کرنی ہے، تو پھر انصاف کیسے ہوگا؟ اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ ’آئندہ سماعت پر آئی جی کو بلائیں گے، پھر دیکھیں گے کہ تفتیش کس نے کرنی ہے۔‘
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 11 مارچ تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: کے خلاف مقدمہ درج پولیس افسران
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔