اسلام آباد:

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی احسن اقبال نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر چاروں صوبوں کے وزرائے اعلی اور وزیر اعظم آزاد کشمیر کو خط لکھ کر تجویز دی ہے کہ ہر یونین کونسل میں لڑکیوں کے لیے ہائی اسکول قائم کریں کیونکہ پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے وزرائے اعلیٰ اور آزاد جموں و کشمیر کے وزیراعظم کو خط میں لکھا ہے کہ آج عالمی یوم خواتین کے موقع پر میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنے صوبے میں خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے ایک جرات مندانہ اور مؤثر قدم اٹھائیں۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانے کا سب سے مؤثر ذریعہ تعلیم ہے، ایک تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد درس گاہوں میں رکھی جاتی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ابھی لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد تعلیمی مواقع سے محروم ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملک کے کئی یونین کونسلز میں لڑکیوں کے لیے کوئی ہائی اسکول موجود نہیں ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم رہ جاتی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یونیسیف کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد لڑکیاں اسکول سے باہر ہیں اور ثانوی سطح پر صرف 13 فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔

احسن اقبال نے کہا کہ اس سنگین مسئلے کو حل کرنے کے لیے میری تجویز ہے کہ آپ کی حکومت آئندہ بجٹ میں ہر یونین کونسل میں لڑکیوں کے کم ازکم ایک ہائی اسکول کے قیام کو ترجیح دے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم تک رسائی یقینی بنانا، ہر یونین کونسل میں ہائی اسکول کی موجودگی سے طویل فاصلے طے کرنے کی دشواری کم ہوگی، جو اکثر والدین کو اپنی بیٹیوں کو اسکول بھیجنے سے روکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح  تعلیمی مساوات کو فروغ دینا کے عمل میں ہر لڑکی کو تعلیمی مواقع فراہم کرنے سے خواندگی اور سیکھنے کے نتائج میں صنفی فرق کم کیا جا سکے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ معاشی ترقی کو فروغ دینے کے لیے تعلیم یافتہ لڑکیاں خودمختار خواتین بنتی ہیں جو معیشت میں مثبت کردار ادا کرتی ہیں، گھریلو معیارِ زندگی کو بہتر بناتی ہیں اور معاشرتی ترقی میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم میں سرمایہ کاری قومی ترقی کے لیے سب سے مؤثر حکمت عملیوں میں سے ایک ہے اور ورلڈ بینک کے مطابق اگر پاکستان میں تعلیمی میدان میں صنفی فرق ختم کر دیا جائے تو ملکی معیشت میں سالانہ 30 ارب ڈالر تک کا اضافہ ہو سکتا ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی لڑکی کے تعلیمی دورانیے میں ہر اضافی سال اس کی مستقبل کی آمدنی میں 10 سے 20 فیصد اضافہ کر سکتا ہے، جو براہ راست غربت کے خاتمے اور اقتصادی ترقی میں معاون ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہر یونین کونسل میں احسن اقبال نے پاکستان میں وفاقی وزیر ہائی اسکول میں لڑکیوں نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • وزیراعظم کی معروف صنعتکاروں، ممتاز کاروباری شخصیات سے ملاقات، پالیسی سازی، بجت سے متعلق مشاورت
  • وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی