افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے اپوزیشن غیر سنجیدہ ہے: بلاول بھٹو زرداری
اشاعت کی تاریخ: 10th, March 2025 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اپوزیشن غیر سنجیدہ ہے۔
روز نامہ جنگ کے مطابق پارلیمنٹ میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی پی کا کہنا تھا کہ آج صدر زرداری نے تاریخی خطاب کیا، آصف زرداری پہلے صدر ہیں جنہوں نے آٹھویں بار پارلیمان سے خطاب کیا۔انکا کہنا تھا کہ صدر مملکت نے خطاب میں حکومت کی معیشت میں بہتری کے حوالے سے تعریف کی، صدر نے مسائل کے ساتھ نشاندہی بھی کی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اپوزیشن غیر سنجیدہ ہے، اپوزیشن کے رویے سے لگتا ہے کہ انہیں عوامی مسائل میں کوئی دلچسپی نہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کےلئے عوامی مسائل کا حل ان کی ترجیح نہیں ہے، اپوزیشن کا مقصد صرف اپنی سیاست چمکانا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ آج اپوزیشن کا شور ہوتا رہا اور صدر نے اپنی تقریر جاری رکھی۔
امریکہ میں طیارہ پارکنگ لاٹ میں گاڑیوں کے اوپر گر کر تباہ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔