فیصل بینک، اخوت فاؤنڈیشن اور ٹی سی ایف میں بلاسود سولر فنانسنگ کیلئے اشتراک
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
پاکستان کے معروف اسلامی بینکوں میں سے ایک فیصل بینک لمیٹڈ (ایف بی ایل) نے اخوت اسلامک مائیکرو فنانس (اے آئی ایم) اور سٹیزن فاؤنڈیشن (ٹی سی ایف) کے ساتھ شراکت داری کرلی ہے، جس کا مقصد پائیداری اور خواتین کو بااختیار بنانا ہے۔ اس تعاون کے تحت بینک خواتین کو بلاسود سولر فانسنگ فراہم کرے گا۔ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر شروع کیا گیا یہ اقدام فیصل بینک کے طویل مدتی وژن کی عکاسی کرتا ہے، جس کا مقصد کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے ذریعے حقیقی اثر پیدا کرکے منصفانہ اور پائیدار مستقبل کی تخلیق کرنا ہے۔
فیصل ہاؤس میں مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے ساتھ اس شراکت داری کو باضابطہ شکل دے دی گئی ہے۔ اس اقدام سے پاکستان بھر میں اساتذہ اور خواتین کو آسان اقساط میں ادائیگی کے منصوبوں کے ساتھ سولر سسٹمز نصب کرنے کی سہولت ملے گی۔ معاہدے پر دستخط کی تقریب میں فیصل بینک کے صدر اور سی ای او یوسف حسین، اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب اور ایف بی ایل کی سینئر انتظامیہ نے شرکت کی۔
ماحول دوست توانائی کو فروغ دینے والا یہ اقدام عالمی ماحولیاتی اہداف کی حمایت کرتا ہے۔ یہ بجلی کی لاگت گھٹانے اور کاربن کے اخراج میں کمی کے ساتھ قومی گرڈ پر انحصار کم کرنے میں مدد کرے گا۔ فیصل بینک بامعنی تبدیلی کے لیے پُرعزم ہے، تاکہ اساتذہ جن میں اکثریت خواتین اساتذہ کی ہے، کو مالی ریلیف فراہم کرنا اور ان کے پائیدار مستقبل کو یقینی بنانا ہے، تاکہ وہ آنے والی نسلوں کی بہتر مستقبل کی تشکیل جاری رکھ سکیں۔
فیصل بینک کے صدر اور سی ای او یوسف حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ”فیصل بینک میں ہم یقین رکھتے ہیں کہ حقیقی ترقی پائیداری اور خودمختاری سے حاصل ہوتی ہے، جس سے بامقصد اقدامات کی راہ ہموار ہوتی ہے۔ اس اقدام کے ذریعے ہم نہ صرف قابل تجدید توانائی کو فروغ دے رہے ہیں بلکہ خواتین پر سے مالی بوجھ کم کرنے اور ان کے لیے طویل المدتی استحکام کو یقینی بنارہے ہیں۔ رواں سال خواتین کے عالمی دن کے موضوع ” Accelerate Action “ کے مطابق ہم ایک زیادہ جامع، منصفانہ اور پائیدار مستقبل کے عزم پر قائم ہیں۔ ایسا مستقبل جہاں ہر عورت کو ترقی کے یکساں مواقع میسر ہوں گے۔“
اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب نے کہا، ”ہمارا یہ تعاون زیادہ پائیدار اور مساوی معاشرے کی تشکیل کی جانب ایک قدم ہے۔ بلاسود سولر فنانسنگ کی سہولت فراہم کرکے ہم نہ صرف ماحولیاتی تحفظ میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ خواتین اور اساتذہ کو بااختیار بنارہے ہیں، تاکہ وہ مالی خودمختاری حاصل کرکے ایک صاف اور سرسبز مستقبل کی جانب بڑھ سکیں۔ ہم اس نیک مقصد میں تعاون کرنے پر فیصل بینک کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔“
ٹی سی ایف کے سی ای او اسد ایوب نے کہا، ”یہ شراکت داری خواتین کو بااختیار اور آئندہ نسل کے لیے پائیدار مستقبل کو یقینی بنانے کے ہمارے مشترکہ وژن پر مبنی ہے۔ سولر انرجی تک رسائی فراہم کرکے ہم خواتین کو ایک روشن اور خودمختار مستقبل کے لیے ضروری وسائل مہیا کررہے ہیں۔ ہم فیصل بینک اور اخوت فاؤنڈیشن کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے اس اقدام کو ممکن بنایا۔“
فیصل بینک، اخوت فاؤنڈیشن اور ٹی سی ایف کے درمیان شراکت داری اقتصادی خودمختاری، ماحولیاتی تحفظ اور سماجی ترقی کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
اشتہار
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پائیدار مستقبل اخوت فاؤنڈیشن فیصل بینک کے شراکت داری خواتین کو ٹی سی ایف کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے اور اس بارے میں کوئی دوسرا فیصلہ نہیں کر سکتا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ صرف و صرف کشمیر کرے گا، نہ اسلام آباد، نہ پنجاب، نہ سندھ، نہ بلوچستان اور نہ ہی خیبرپختونخوا اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ یہی ان کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ27 جولائی کو برابری کے حق اور عوامی نمائندگی کے لیے تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنایا جائے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ عوام کی حمایت سے منتخب ہونے والے نمائندے کشمیری عوام کے حقوق اور مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔
واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں پولنگ ہوگی، جبکہ دیگر مراحل اگست کے پہلے عشرے میں مکمل کیے جائیں گے۔