بنوں کینٹ حملہ میں ہلاک 16 دہشتگردوں میں سے 2 افغان شہری نکلے
اشاعت کی تاریخ: 11th, March 2025 GMT
ذرائع کے مطابق بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے اب تک 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے، دونوں دہشت گردوں کی شناخت عبد الہادی عرف حماس مہاجر اور شمس اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں پیشرفت سامنے آئی ہے، حملے میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق بنوں کینٹ پر ہونے والے حملے میں شامل 16 دہشت گردوں میں سے اب تک 2 حملہ آوروں کی شناخت ہوئی ہے، دونوں دہشت گردوں کی شناخت عبد الہادی عرف حماس مہاجر اور شمس اللہ کے ناموں سے ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ہلاک دہشت گردوں کا تعلق افغانستان کے صوبہ پکتیا سے تھا، ایک حملہ آور افغانستان کے صوبہ پکتیا کے گاؤں دروزی کا رہائشی تھا۔ ذرائع کے مطابق تفتیشی ٹیم دیگر حملہ آوروں کی شناخت اور خاندانی تفصیلات اکھٹی کر رہی ہے۔ خیال رہے کہ بنوں کینٹ کی دیوار کے قریب 4 مارچ کو 2 خودکش حملے ہوئے تھے جس کی ذمہ داری کالعدم تنظیم گل بہادر گروپ نے قبول کی تھی۔ بروقت اور مؤثر کارروائی کے نتیجے میں تمام 16 حملہ آور ہلاک ہوگئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حملہ آوروں کی شناخت ذرائع کے مطابق بنوں کینٹ ہوئی ہے
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔