ڈاکٹرز، نرسز سمیت تمام ملازمین کیلئے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 15th, March 2025 GMT
زاہد چوہدری: محکمہ صحت نے ڈاکٹرز، نرسز اور تمام ملازمین کو سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے تبصروں اور تنقید سے گریز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ایک اعلامیہ کے مطابق محکمہ صحت نے تمام میڈیکل عملے کو سوشل میڈیا کا استعمال محدود رکھنے کی تاکید کی ہے اور وفاقی حکومت کی سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق گائیڈلائنز پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ کسی بھی نوعیت کی معلومات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ نے تمام میڈیکل انسٹی ٹیوشنز اور ٹیچنگ ہسپتالوں کے سربراہان کو اس بارے میں مراسلہ جاری کیا ہے۔
اسلاموفوبیا عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے ایک خطرہ ہے: مریم نواز
یہ قدم میو ہسپتال کے حالیہ واقعے کے بعد اٹھایا گیا ہے جس میں میڈیکل پروفیشنلز کی جانب سے سوشل میڈیا پر تنقید کی گئی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد سوشل میڈیا پر غلط معلومات کی روک تھام اور میڈیکل پروفیشن کی عزت و وقار کو برقرار رکھنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر
پڑھیں:
موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی(پی ٹی اے)نے موبائل کمپنیوں کو غیرمعیاری سروس اور کوریج پر خامیاں دور کرنے کے لیے 30دن کی مہلت دے دی اور بتایا کہ مذکورہ کمپنیوں کو گزشتہ چار برس میں 3 ارب 41 کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔
پی ٹی اے کے مطابق ملک بھر میں موبائل سروس کے معیار اور کوریج میں بہتری کے لیے ریگولیٹری کارروائیاں تیز کردی گئی ہیں۔
پی ٹی اے نے سروس میں خامیوں پر موبائل آپریٹرز کو 30 روز میں ضروری اقدامات کرنے اور خرابیوں کی وجوہات کا تعین کرکے اصلاحی پلان جمع کرانے کی ہدایت کردی ہے۔
موبائل کمپنیوں کو خبردار کرتے ہوئے پی ٹی اے نے کہا ہے کہ خامیاں دور نہ کرنے والے آپریٹرز کے خلاف مزید سخت کارروائی کی جائے گی۔
پی ٹی اے کے مطابق گزشتہ چار برس کے دوران موبائل کمپنیوں کو 3 ارب 41کروڑ روپے جرمانے عائد کیے گئے ہیں اور کوالٹی آف سروس اور کوریج کی خلاف ورزیوں پر 20وارننگ لیٹرز اور 86 شوکاز نوٹسز بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔