UrduPoint:
2026-07-24@13:40:47 GMT

خیبر پختونخوا میں تشدد میں اضافہ کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT

خیبر پختونخوا میں تشدد میں اضافہ کیوں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 17 مارچ 2025ء) صوبائی حکومت نے دارالحکومت پشاورسمیت دیگر اضلاع میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے سرکاری عہدیداروں کو رات کے وقت سفر نہ کرنے اور اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ یہ حکم نامہ اعلیٰ افسران اور اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے بعد جاری کیا گیا ہے، جس کا بنیادی مقصد ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو روکنا ہے۔

اسی طرح افغانستان سے ملحقہ تین ضم قبائلی اضلاع کے مختلف علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں ڈی ڈبلیو نے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دلاور وزیر سے بات کی تو ان کا کہنا تھا، ’’'کرفیو کا نام ہی ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے شہریوں میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

(جاری ہے)

ضم قبائلی اضلاع کے سیاسی اتحاد نے کرفیو کے نفاذ کی مخالفت کی ہے جب کہ تاجر برادری بھی اس کرفیو سے متاثر ہو رہی ہے۔

‘‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ چھوٹے بازاروں سمیت اعظم ورسک کا بڑا بازار بھی بند ہے، جس کی وجہ سے عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وزیر کے بقول جنوبی اور شمالی وزیرستان میں نسبتا امن ہے لیکن سکیورٹی فورس کی نقل و حرکت کی وجہ سے بھی بعض اوقات کرفیو نافذ کیا جاتا ہے۔‘‘

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ

خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی اس لہرکے دوران زیادہ تر مذہبی شخصیات، سکیورٹی اہلکاروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کےافسران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کی وجہ سےعام شہریوں میں خوف بڑھتا جا رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والی پولیس کومسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے افغان سرحد سے متصل پاکستانی اضلاع میں دہشت گردی اور بدامنی کےواقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران پاکستان اور افغانستان کے مابین آمدورفت کی گزرگاہیں بھی کئی کئی ہفتوں کے لیے بند ہوتی رہی ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث افراد میں زیادہ تر کا تعلق افغانستان سے ہوتا ہے جبکہ افغان حکام کے اس الزام کو مسترد کرتے رہے ہیں۔

دہشت گردوں کے خلاف کاروائیاں

جہاں صوبے کے بعض علاقوں میں کرفیو نافذ کیا گیا ہے، وہیں جنوبی اضلاع کے بعض علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں۔ افغانستان کے سرحدی اضلاع ٹانک،جنوبی وزیرستان، ڈیرہ اسماعیل خان، ضلع خیبر جیسےعلاقوں میں کرفیو سمیت دہشت گردوں کےخلاف آپریشن بھی کیے جا رہے ہیں، تاہم مقامی افراد کا کہنا ہے کہ مسلسل کارروائیوں سے ہلاکتیں بڑھنے کے ساتھ ساتھ علاقہ عدم استحکام کا شکار ہونے کے خدشات ہیں۔

دہشت گردی کی اس نئی لہر کے حوالے سے جب ڈی ڈبلیو نے قبائلی اُمور کے ماہر شمس مومند سے بات کی تو ان کا کہنا تھا، ''ابھی حکومت نے جتنے بھی آپریشن شروع کیے ہیں، عوام کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ کیونکہ یہ ماضی کی طرح پراکسی وار نہیں بلکہ آپریشن کے بعد باقاعدہ طور مارے جانے والے دہشت گردوں کے تصاویرجاری کی جاتی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو سال رواں کے دوران سکیورٹی فورسز کی جانب سے آپریشن کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

پہلے دہشت گردانہ حملوں میں سکیورٹی اہلکاروں کا جانی نقصان زیادہ ہوتا تھا لیکن اب صورتحال تبدیل ہوگئی ہے اور پولیس اورفوج کامیابی سے اپنا دفاع کر رہے ہیں۔‘‘

امن وامان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے خیبر پختونخوابھر کےعوام کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ فوجی آپریشن، بم دھماکے، خود کش حملے اور فرقہ ورانہ فسادات نے صوبے کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق بدامنی کی وجہ سے تاجروں کی ایک بڑی تعداد دیگرصوبوں یا بیرون ملک منتقل ہوچکی ہیں۔ ضم قبائلی اضلاع میں آئے روز آپریشن اورکرفیوکی وجہ سے بھی مقامی آبادی نقل مکانی پرمجبور ہوئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے دہشت گردوں کے کی وجہ سے کا کہنا رہے ہیں رہا ہے

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے، اسحاق ڈار
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈ سے تباہی، 28 افراد جاں بحق، 47 گھر متاثر
  • افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کیلئے بڑا سکیورٹی چیلنج ہے: اسحاق ڈار
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست