امریکا کی پاکستان کو سفری پابندیوں ختم کرنے کیلیے 60 دن کی مہلت
اشاعت کی تاریخ: 17th, March 2025 GMT
پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے حالیہ تعاون پر امریکا نے سیکیورٹی خدشات دور کرنے کیلیے پاکستان کو 60 روز کا وقت دیا ہے جس کے نتیجے میں ممکنہ پابندیاں ختم ہوسکتی ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق حکومت کی جانب سے ایک نئی تجویز سامنے آئی جس کے لیک ڈرافٹ سے میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پاکستان کو ریڈ لسٹ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ریڈ لسٹ میں شامل ممالک پر امریکا میں مکمل سفری پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
واشنگٹن میں سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان اور امریکا کے درمیان دہشت گردی کے خلاف نئے سرے سے تعاون نے پاکستان کو سخت ترین پابندیوں سے بچانے میں مدد دی ہے۔
چند روز قبل کانگریس سے اپنے پہلے خطاب میں، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا، جس نے 2021 کے کابل ایئرپورٹ بم دھماکے سے منسلک ایک اہم شخصیت محمد شریف اللہ کی گرفتاری میں امریکہ کی مدد کی تھی۔
کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے اس دھماکے میں 13 امریکی فوجی اہلکار اور کم از کم 170 افغان شہری ہلاک ہوئے تھے۔
تاہم، امریکی اہلکار افغانستان میں دہشت گردی میں اضافے کی وجہ سے فکر مند ہیں اور وہ پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف ایک اہم اتحادی سمجھتے ہیں، اس کے باوجود وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے سیکیورٹی خدشات دور کرنے اور اقدامات کیلیے پاکستان کو 60 روز کا وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، پاکستان پر مکمل سفری پابندی لگانے کے بجائے اسے ایک درمیانی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے، جس کی درجہ بندی میں کچھ اختلافات ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کو
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،