ویب ڈیسک : وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک نے انکشاف کیا ہے کہ ملک اِس وقت حالت جنگ میں ہے اوردہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے حکومت آپریشن کا فیصلہ کرچکی ہے۔

 نجی  پروگرام  میں گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک کا کہنا تھاکہ سکیورٹی فورسز کے جوان ہمارے بچوں کی حفاظت کیلئے شہید ہورہے ہیں۔ ملک اِس وقت حالت جنگ میں ہے، ٹارگٹڈ آپریشن ہو یا جنگ دہشتگردوں کے خاتمے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور جو پاکستان میں بچوں کو شہید کررہے ہیں، جنگ ان کی دہلیز پر لے جائیں گے۔

بیٹے نے کھانے میں معمولی تاخیر پر  ماں کو  قتل کردیا

مصدق ملک کا کہنا تھاکہ اے پی ایس کے بعد دہشتگردی کو ختم کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا، پی ٹی آئی حکومت آنے کے بعد دوبارہ دہشتگردوں سے بات اورلاکر بسانے کی بات ہوئی، یہ ان دہشتگردوں کو اپنے سوشل فیبرک کا حصہ مانتے تھے۔

خیال رہے کہ قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی نے دہشت گردوں کا نیٹ ورک توڑنے اور لاجسٹک سپورٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور  اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ دہشت گردی کو اس کی ہر شکل میں ختم کرنا ہوگا۔

غزہ جنگ بندی کیوں ٹوٹی، کون لوگ بمباری کا نشانہ بنے، الجزیرہ نیوز کی رپورٹ

شرکا نے اتفاق کیا کہ ریاست پوری طاقت سے دہشت گردی کا مقابلہ کرے گی، کوئی ادارہ، فرد یا گروہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کمزوری نہ دکھائے

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: کا فیصلہ گردی کو

پڑھیں:

کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا

کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔

میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔

مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔

یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔

مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • بلوچستان میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 17 دہشتگرد ہلاک
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی