Islam Times:
2026-06-02@23:47:21 GMT

یمن، امریکا اور اسرائیل کا قبرستان

اشاعت کی تاریخ: 19th, March 2025 GMT

یمن، امریکا اور اسرائیل کا قبرستان

اسلام ٹائمز: یمنی انتہائی سادہ زندگی گزارنے والا، وہ حد درجہ قناعت پسند ہے۔ یمنی صبر کا پیکر، ایسا صبر جو انسانی طاقت سے بھی بڑھ کر ہے۔ یمنی انتہائی ضدی، روزانہ فطرت کی سختیوں سے نبرد آزما رہتا ہے۔ یمنی جنگجو مزاج، اس کے نزدیک زندگی ایک معرکہ ہے، ایک جنگ کا میدان، اسی لیے وہ اپنی روایتی جنبّیہ (خنجر) ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہے اور اسے آخری سانس تک نہیں چھوڑتا۔ وہ ہتھیار کو مردانگی کی علامت سمجھتا ہے اور زندگی کو ایک جنگل، جہاں زندہ رہنے کے لیے خود کا دفاع ضروری ہے۔ ترجمہ و ترتیب: سیدہ نقوی

اگر اسرائیل نے غزہ کو مکمل طور پر تباہ کردیا، حزب اللہ کو کمزور کردیا اور شام میں مغربی و ترک حمایت سے حکومت کی تبدیلی کو ممکن بنایا تو یہ تمام کامیابیاں یمن کی چٹانوں سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائیں گی۔ جو بھی یمن میں رہا ہو اور اس کے عوام کے ساتھ گھلا ملا ہو، وہ اس حقیقت کو بخوبی سمجھتا ہے۔ یمنی انسان تمام عربوں سے مختلف صفات کا حامل ہے۔

یمنی انتہائی سادہ زندگی گزارنے والا، وہ حد درجہ قناعت پسند ہے۔ یمنی صبر کا پیکر، ایسا صبر جو انسانی طاقت سے بھی بڑھ کر ہے۔ یمنی انتہائی ضدی، روزانہ فطرت کی سختیوں سے نبرد آزما رہتا ہے۔ یمنی جنگجو مزاج، اس کے نزدیک زندگی ایک معرکہ ہے، ایک جنگ کا میدان، اسی لیے وہ اپنی روایتی جنبّیہ (خنجر) ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا ہے اور اسے آخری سانس تک نہیں چھوڑتا۔ وہ ہتھیار کو مردانگی کی علامت سمجھتا ہے اور زندگی کو ایک جنگل، جہاں زندہ رہنے کے لیے خود کا دفاع ضروری ہے۔

یمنی زندگی کی آسائشوں سے بے نیاز، یہاں تک کہ بجلی کی عدم دستیابی بھی اس کے لیے مسئلہ نہیں۔ ہم جب یمن کے دیہات میں بجلی کے بغیر رہتے تھے تو طلبہ تیل کے چراغوں کے ساتھ خوشی خوشی ہمارے پاس آتے اور کہتے، "یہ ہماری ثقافت ہے، ہمیں اندھیرے اور فانوس سے محبت ہے، ہمیں کوئی شکایت نہیں" جبکہ ہم خود بجلی کی عدم دستیابی پر پریشان ہوتے۔

یمنیوں کی محفلیں، قہوہ اور "قات" (روایتی پودا) ان کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ہے، جس سے وہ ایسی مسرت محسوس کرتے ہیں جیسے کوئی مغربی شخص لاس ویگاس یا مالدیپ میں لطف اندوز ہوتا ہو، ان کی سادہ محفلوں کا مقابلہ مغرب یا خلیجی طرزِ زندگی سے کیا جائے تو وہ صرف مسکرا کر کہتے ہیں: "عادی يا أستاذ، لهم الدنيا، و لنا الآخرة" (استاد جی! دنیا ان کے لیے ہے، اور آخرت ہمارے لیے)۔

یمنی عوام کا اعتقاد، وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی سادہ اور مشکل زندگی خدا کی طرف سے مقدر ہے۔ ان کے مطابق دنیاوی آسائشیں مغرب اور خلیجی ممالک کے لیے ہیں جبکہ یمن، فلسطین، نیجر اور دیگر محروم اقوام کو آخرت نصیب ہوگی اور آخرت ہی اصل کامیابی ہے۔ ہم اکثر اس سوچ پر حیران ہوتے اور اسے قدامت پسندی سمجھتے لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہی نظریہ انہیں بے مثال صبر اور ہمت عطا کرتا ہے، جو جنگجو اور بہادر افراد تیار کرتا ہے۔ یمنی خودکفیل ہے، اسے بیرونی دنیا سے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنی زمین میں کاشت کرتا ہے اور اسی پر قانع رہتا ہے۔ یمن کے پاس وسیع و عریض سمندری حدود ہیں، جہاں مچھلی کی دولت بے پناہ ہے۔

صعدہ، حجہ، عمران، اور المحویت کی پہاڑیاں اتنی مضبوط اور پیچیدہ ہیں کہ ایٹمی حملے بھی ان پر اثر نہیں ڈال سکتے۔ ایک چینی کمپنی نے صعدہ میں سڑکیں تعمیر کیں، اور اس کے سربراہ نے یمنی صدر کو مشورہ دیا کہ ان پہاڑوں کے اندر سرنگیں اور خفیہ راستے بنائے جائیں کیونکہ یہ علاقے کسی بھی قسم کے حملے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ یمنی عوام چٹانوں کی طرح سخت، پرندوں کی مانند نرم دل، اور غیرت و عزت کے معاملے میں ناقابل شکست ہیں۔ وہ اپنی زندگی کو میدانِ جنگ سمجھتے ہیں اور ہار تسلیم نہیں کرتے۔ سلام ہو یمن پر، یمن کے پہاڑوں پر، اور یمن کے بہادر مردوں پر۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: یمنی انتہائی وہ اپنی ہے اور کے لیے اور اس یمن کے

پڑھیں:

لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش

کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔

جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا  ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔

حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان