تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینئر رہنما پروفیسر اجمل حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات قریب آتے ہی پی ٹی آئی حکومت کو گرانے والے سہولت کار اپنی ہی لانچ کردہ گلبر حکومت پر برسے جا رہے ہیں۔ مخالفین، عوام کی حقیقی ترجمانی کرنے کے بجائے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سینئر رہنما پروفیسر اجمل حسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے انتخابات قریب آتے ہی پی ٹی آئی حکومت کو گرانے والے سہولت کار اپنی ہی لانچ کردہ گلبر حکومت پر برسے جا رہے ہیں۔ مخالفین، عوام کی حقیقی ترجمانی کرنے کے بجائے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آنے والے انتخابات میں تحریک انصاف ایک بار پھر گلگت بلتستان میں حکومت بنائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فارم 47 کے ذریعے بننے والی حکومت کے حامیوں کو گلگت بلتستان کے باشعور عوام نے پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔ حفیظ الرحمٰن اور امجد ایڈووکیٹ جتنا مرضی عمران خان اور خالد خورشید کے خلاف جھوٹ بولیں، عوام سچ جان چکے ہیں اور وہ مزید دھوکہ کھانے کے لیے تیار نہیں۔ گزشتہ چند سالوں میں پی ڈی ایم نے ملکی سیاست کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ 8 فروری کے انتخابات میں ہونے والی تاریخی دھاندلی کے شواہد عوام کے سامنے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کو راتوں رات چرایا گیا اور آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی کی گئی، جو کسی سے پوشیدہ نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اداروں میں مداخلت اور کرپٹ مافیا کی سرپرستی نے ان کے چہروں سے نقاب ہٹا دیا ہے۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ خود کو ایک جمہوری جماعت قرار دیں؟ حقیقت یہ ہے کہ آج بڑے بڑے دعوے کرنے والے اپنے دورِ حکومت میں اقربا پروری اور کرپشن کے سوا گلگت بلتستان کو کچھ نہیں دے سکے۔ ذاتی مفادات کو قومی مفاد پر ترجیح دی گئی، جس کے نتیجے میں عوام آج بھی بنیادی ضروریات جیسے بجلی اور پانی سے محروم ہیں۔ مگر جب ان کی تقریریں سنو تو ایسا لگتا ہے جیسے انہوں نے گلگت بلتستان کو جنت بنا دیا ہو۔ یہ تمام عناصر عمران خان کی بے پناہ مقبولیت سے خوفزدہ ہیں، مگر انشاء اللہ گلگت بلتستان کے انتخابات سے پہلے خان صاحب بھی بازیاب ہوں گے اور تحریک انصاف ایک بار پھر عوامی طاقت سے حکومت بنائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے انتخابات تحریک انصاف رہے ہیں

پڑھیں:

پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم

پاکستان نے بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی اور علمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو کو نئے کمپیوٹر عطیہ کر دیے، جبکہ پاکستانی ہائی کمیشن کے تعاون سے قائم جدید کمپیوٹر لیبارٹری اور تزئین و آرائش شدہ کلاس رومز کا بھی افتتاح کر دیا گیا۔

تقریب میں بنگلہ دیش میں پاکستان کے ہائی کمشنر عمران حیدر اور ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام نے مشترکہ طور پر کمپیوٹر لیب کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے تعلیم، تحقیق، ثقافتی روابط اور انسانی وسائل کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔

ہائی کمشنر عمران حیدر نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر لیب کا قیام صرف نئی سہولیات کی فراہمی نہیں بلکہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلیم، ثقافتی ہم آہنگی اور نئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ عزم کی علامت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جدید لیبارٹری طلبہ اور اساتذہ کی صلاحیتوں میں اضافے، تحقیق کے فروغ اور معیاری تعلیم کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم باہمی اعتماد، تعاون اور عوامی روابط کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہے، اسی مقصد کے تحت پاکستانی ہائی کمیشن مختلف تعلیمی اور علمی تعاون کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کی جامعات کے درمیان مشترکہ تحقیقی منصوبوں، اساتذہ اور طلبہ کے تبادلہ پروگرام، سمسٹر ایکسچینج، مشترکہ ڈگری پروگرامز اور قلیل مدتی تربیتی کورسز شروع کرنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔

اس سے قبل ہائی کمشنر عمران حیدر نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر اے بی ایم عبیدالاسلام سے ملاقات کی، جس میں ڈھاکہ یونیورسٹی اور پاکستان کی مختلف جامعات کے درمیان تعلیمی روابط بڑھانے اور مشترکہ تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں طارق رحمان کی وزراتِ عظمیٰ: پاک بنگلہ دیش تعلقات میں تاریخی پیشرفت کے مواقع

وائس چانسلر نے پاکستانی ہائی کمیشن کی جانب سے شعبہ اردو کی ترقی کے لیے فراہم کیے گئے تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ 1921 میں قائم ہونے والا شعبہ اردو یونیورسٹی کے قدیم اور ممتاز شعبوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں اس وقت بی ایس (آنرز)، ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر تعلیم دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کا تعاون مستقبل میں بھی جاری رہے گا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور تعلیمی تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

تقریب میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار، شعبہ اردو کے چیئرمین ایسوسی ایٹ پروفیسر محمد غلام مولا، پروفیسر ڈاکٹر محمد غلام ربانی، پاکستانی ہائی کمیشن کے ڈپٹی ہائی کمشنر محمد واصف سمیت اساتذہ، طلبہ اور دونوں ممالک کے حکام نے بھی شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاک بنگلہ دیش پاکستان پروفیسر ڈاکٹر محمد ابوالکلام سرکار ڈھاکہ یونیورسٹی کمپیوٹر لیب

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری