بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ساتھ موجود غنڈوں کی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک ہوئے، کمشنر کوئٹہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, March 2025 GMT
کمشنر کوئٹہ نے الزام عائد کیا ہے کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کے غنڈوں کی فائرنگ سے کوئٹہ میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔
کمشنر کوئٹہ ڈویژن کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ 21 مارچ 2025 کو جعفر ایکسپریس کے ہلاک شدہ دہشتگردوں کے حق میں بی وائی سی کے احتجاج کے دوران پرتشدد مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور فائرنگ کی۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ بی وائی سی قائدین کے ساتھ موجود مسلح غنڈوں کی فائرنگ سے 3 افراد ہلاک ہوئے تاہم بی وائی سی کی قیادت نے ان لاشوں کو ہسپتال سے اٹھا کر احتجاجی دھرنا دیا تاکہ ان کا طبی معائنہ نہ ہوسکے، سول حکام اور پولیس نے بی وائی سی کے رہنماؤں سے کہا کہ ان لاشوں کا طبی معائنہ مروجہ قوانین کے تحت ہونا قانونی طور پر ضروری ہے تاہم بی وائی سی کے مسلح رہنماؤں نے انکار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیے: ماہ رنگ بلوچ کو کوئٹہ میں جاری دھرنے سے گرفتار کیا گیا، بلوچ یکجہتی کمیٹی کا دعویٰ
کمشنر کوئٹہ کے بیان کے مطابق واضح رہے کہ بی وائی سی رہنماؤں کیساتھ موجود مسلح افراد کی فائرنگ سے 2 مزدور اور ایک افغان شہری فائرنگ کی زد میں آکر چل بسے بی وائی سی نے لاشیں دینے سے انکار اس لیے کیا کہ ان 3 افراد پر فائرنگ بی وائی سی کے مسلح غنڈوں پر ثابت ہونا تھی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ بی وائی سی کی قیادت نے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کے لیے غیر ضروری احتجاج شروع کیا، 22 مارچ کو بی وائی سی کی فائرنگ سے مارے جانے والے 3 افراد کے ورثاء نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس سے درخواست کی کہ ان کے پیاروں کی لاشیں بی وائی سی سے چھڑوا کر برآمد کروا کر اہلخانہ کے حوالے کریں تاکہ وہ آخری رسومات ادا کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ: مظاہرین 5 خود کش حملہ آوروں کی لاشیں اسپتال سے زبردستی لے گئے، معاملہ کیا ہے؟
بیان کے مطابق اس مطالبے کے بعد ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے کارروائی کی واقعے میں ملوث بی وائی سی رہنمائوں کے خلاف متعلقہ قوانین کی خلاف ورزی اور سول ہسپتال پر حملے اور عوام کو پر تشدد احتجاج پر اکسانے سمیت دیگر اہم دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکےگرفتار کرلیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان کوئٹہ دھرنا ماہ رنگ بلوچ مسنگ پرسنز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان کوئٹہ دھرنا ماہ رنگ بلوچ بی وائی سی کے کی فائرنگ سے کمشنر کوئٹہ گیا ہے
پڑھیں:
کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات پر اہم اجلاس ہوا جس میں مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی زیر صدارت وزارتِ خارجہ میں کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ملک بھر میں توانائی کے مؤثر استعمال اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کارجبکہ جاری کفایت شعاری اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
موسمِ گرما میں دن کے دورانیے میں اضافے اور بلند درجہ حرارت کے پیش نظر کمیٹی نے دکانوں، بازاروں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل کاروبار کے اوقات کار رات 9 بجے تک بڑھانے کی منظوری دے دی۔
مزید پڑھیںلاہور میں بھی اسمارٹ لاک ڈاؤن پھر سے نافذ، پرانے اوقات کار بحال
اجلاس کے فیصلوں کے مطابق ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے، تاہم ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز ان اوقات کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شادی ہالز اور تقریبات کے مقامات کے اوقات کار رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ فارمیسیز، ہسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق خدمات سمیت ضروری سروسز کو ان پابندیوں سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
کمیٹی نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی حکام کے ساتھ مکمل تعاون کرتے ہوئے ان فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنائیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء برائے پیٹرولیم، موسمیاتی تبدیلی، اطلاعات اور آئی ٹی و ٹیلی کام، وزیر اعظم کے معاونینِ خصوصی برائے خزانہ اور نائب وزیراعظم، وفاقی سیکریٹریز تجارت، کابینہ، پیٹرولیم اور آئی ٹی و ٹیلی کمیونی کیشنز کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے سینئر حکام نے بھی شرکت کی۔کمیٹی نے ایجنڈے میں شامل دیگر امور اور کیسز کی بھی منظوری دی۔