کراچی: واٹر ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، میاں، حاملہ بیوی جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, March 2025 GMT
کراچی کے علاقے ملیر ہالٹ کے قریب واٹر ٹینکر کی موٹر سائیکل کو ٹکر سے شوہر اور حاملہ بیوی جاں بحق ہوگئے۔
ریسکیو زرائع نے بتایا کہ حادثے کے نتیجے میں خاتون اور مرد شدید زخمی ہوئے، بعد ازاں خاتون اور مرد دم توڑ گئے، جاں بحق ہونے والے میاں بیوی ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والی خاتون حاملہ تھی، حادثے کے دوران خاتون کے پیٹ میں موجود بچہ بھی دم توڑ گیا۔
جاں بحق شخص کی شناخت عبدالقیوم اور خاتون کی شناخت زینب زوجہ عبدالقیوم کے نام سے ہوئی۔
پولیس نے بتایا کہ حادثے کے بعد مشتعل عوام نے واٹر ٹینکر کو آگ لگانے کی کوشش کی، واٹر ٹینکر کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا۔
حادثے کے فوری بعد پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے ، ٹریفک کی روانی بحال کرائی جا رہی ہے۔
ایس ایس پی کورنگی طارق نواز نے کہا کہ پولیس نے ٹینکر کے ڈرائیور اور ہیلپر کو گرفتار کرلیا، دونوں گرفتار ملزمان خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: واٹر ٹینکر حادثے کے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔