لاہور ہائیکورٹ میں پولیس کے نجی ٹارچر سیل کے خلاف دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 25th, March 2025 GMT
لاہور ہائیکورٹ میں ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ پر عملدرآمد کے لیے درخواست پر سماعت ہوئی۔
کیس سماعت جسٹس شمس محمود مرزا نے شہری مشکور حسین کی درخواست پر کی۔
دوران سماعت سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ اس حوالے سے دوسرے بنیچ نے فیصلہ دیا ہے جس پر جسٹس شمس محمود مرزا نے کہا کہ آپ اس فیصلے کی کاپی دیں پھر دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ پولیس کی جانب سے نجی ٹارچرسیل بنائے گئے ہیں جہاں ملزمان کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ابو غریب جیل میں 3 قیدیوں پر انسانیت سوز تشدد، امریکی کانٹریکٹر کو کروڑوں ڈالر ادا کرنے کا حکم
درخواست گزار نے کہا کہ حکومت کی جانب سے زیر حراست ملزمان کی حفاظت کے لیے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیئل ڈیتھ ایکٹ کا نفاذ کیا گیا، مذکورہ ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث لوگوں کے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ گزشتہ 5 سال میں زیرحراست ملزمان کے قتل اور زیادتی کے واقعات کی تفصیلات فراہم کی جائیں اور عدالت پولیس سمیت دیگر اداروں کو ٹارچر اینڈ کسٹورڈیئل ڈیتھ ایکٹ 2022 پر عملدرآمد کا حکم دے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ مذکورہ ایکٹ کے سیکشن 20 کے تحت ایکٹ کے رولز بنانے کا حکم دیا بھی جائے۔
بعدازاں عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پولیس ٹارچر ایکٹ لاہور ہائیکورٹ نجی جیل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولیس لاہور ہائیکورٹ نجی جیل درخواست پر
پڑھیں:
فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
(شاہین عتیق) فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ریاست کے خلاف ٹویٹ کیس کی سماعت دس ستمبر تک ملتوی ہوگئی۔
ایڈیشنل سیشن جج نصرت صدیقی نے فلک جاوید اور صنم جاوید کے کیس کی سماعت کی،عدالت میں اس بار بھی صنم جاوید کو جیل سے لاکر پیش نہیں کیا گیا جبکہ فلک جاوید کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت میں نیشنل کرائم ایجنسی ایف آئی اے نے درخواست دی کہ دونوں کے کیس کی سماعت جیل میں کی جاے،عدالت نے درخواست کو خارج کر تے ہوے قرار دیا کہ یہ کام ہوم ڈیپارٹمنٹ کا ہے ان سے رابطہ کریں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
عدالت میں ایف آئی اے نے صنم جاوید اور فلک جاوید کے خلاف چالان پیش کر رکھا ہے۔