تجارتی سامان پر مشتمل 250 گاڑیوں کا قافلہ ہنگو سے پارا چنار پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 27th, March 2025 GMT
تجارتی سامان پر مشتمل 250 گاڑیوں کا قافلہ ہنگو سے پارا چنارپہنچ گیا، 600 کے قریب گاڑیوں کو پاراچنار کی جانب روانہ کیا گیا تھا تاہم سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر مزید گاڑیاں گیمن چیک پوسٹ سے ٹل واپس بھیج دی گئیں۔
ہنگو ضلع انتظامیہ کے مطابق آج چھ سو کے قریب گاڑیوں کو پاراچنار کی جانب روانہ کیا گیا تھا لیکن سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ڈھائی سو کے قریب گاڑیاں لوئر کرم علیزئی سے پاراچنار کی جانب بھیجا گیا جبکہ گیمن چیک پوسٹ میں رکی ہوئی باقی گاڑیوں کو ٹل واپس بھیج دیا گیا۔
تجارتی سامان میں آٹا، چینی، سبزیاں، پھل، ادویات اور پیٹرولیم مصنوعات سمیت روزمرہ استعمال کی اشیا شامل ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کراچی: لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکا، آگ بھرک اتھی
کراچی:لانڈھی 89 کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکے کے بعد لگنے والی آگ پر ایک گھنٹے سے زائدکی کوششوں کے بعد قابو پالیا گیا۔
ترجمان کے مطابق گیس سلنڈر کی دکان میں آگ گیس لیکج کے باعث لگی، دکان میں گیس جمع ہو گئی تھی اور شارٹ سرکٹ کے باعث دھماکے کے بعد آگ بھڑک اٹھی۔ دکان میں لگی آگ پر فوم کی مدد سے 4 فائر ٹینڈرز نے قابو پایا۔
تفصیلات کے مطابق لانڈھی تھانے کے علاقے لانڈھی 89، پی ایس او پمپ کے قریب گیس سلنڈر کی دکان میں دھماکے کے بعد اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر لی اور پوری دکان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ آگ لگنے کی اطلاع پر پولیس کی بھاری نفری، ریسکیو 1122 اور فلاحی تنظیموں کے رضاکار موقع پر پہنچ گئے۔ پولیس نے شہریوں کو جائے وقوعہ سے دور کر دیا جبکہ ریسکیو 1122 کے عملے نے فوری طور پر آگ بجھانے کی کارروائی شروع کر دی۔
ریسکیو 1122 کے عملے نے ایک گھنٹے سے زائد کی کوششوں کے بعد آگ پر قابو پا کر کولنگ کا عمل شروع کر دیا۔ ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق آگ گیس لیکیج کے باعث لگی تھی اور شارٹ سرکٹ سے دھماکہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ گیس سلنڈر کی دکان میں لگی تھی، اس لیے فوم کے ذریعے آگ پر قابو پایا گیا اور اس کارروائی میں 4 فائر ٹینڈرز نے حصہ لیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ آتشزدگی کے دوران کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ترجمان کے مطابق ریسکیو 1122 کا عملہ اب بھی موقع پر موجود ہے اور ایک ایک کر کے گیس سلنڈرز کو خالی کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچا جا سکے۔