ملتان پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہم ڈبلیو ایم کے رہنمائوں کا کہنا تھا کہ عالمی برادری انسانی بنیادوں پر امداد کی مکمل بحالی اور غزہ کے محاصرے کا مکمل خاتمہ کرائے، غزہ سے ضروری اسرائیلی انخلا مسجد اقصی میں عبادت کی آزادی اور فلسطین کی مکمل آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان جنوبی پنجاب کے صوبائی صدر علامہ اقتدار حسین نقوی نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ماہ رمضان کے آخری جمعۃ المبارک کو یوم القدس سرکاری سطح پر منایا جائے۔ تمام سفارتی مشن اس حوالے سے تقریبات کا اہتمام کریں، غزہ و دیگر فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں، اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں کے اجرا کا مطالبہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق ضروری سیز فائر کا مطالبہ کرتے ہیں، حکومت پاکستان تمام سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور دیگر ذرائع سے مظلوم فلسطینیوں کی مدد کرے، عالمی برادری انسانی بنیادوں پر امداد کی مکمل بحالی اور غزہ کے محاصرے کا مکمل خاتمہ کرائے، غزہ سے ضروری اسرائیلی انخلا مسجد اقصی میں عبادت کی آزادی اور فلسطین کی مکمل آزادی کی حمایت کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے ملتان میں دیگر رہنمائوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ 

اس موقع پر مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری سلیم عباس صدیقی صدر ملی یکجہتی کونسل جنوبی پنجاب، رہنما جماعت اسلامی حافظ محمد اسلم جنرل سیکرٹری ملی یکجہتی کونسل، صوبائی صدر جمیت علمائے پاکستان نورانی مولانا محمد ایوب مغل، صوبائی صدر متحدہ جمیعت اہلحدیث علامہ خالد فاروق، حافظ اللہ ڈتہ کاشف بوسن ایڈووکیٹ جنرل سیکرٹری متحدہ مسلم موومنٹ پاکستان، بشارت علی قریشی مرکزی رہنما شیعہ علما کونسل، میجر محمد اقبال صوبائی نائب صدر پاکستان عوامی تحریک، صوبائی صدر جنوبی پنجاب آئی ایس او احتشام اظہر، سیکرٹری سیاسیات سید وسیم زیدی نے خطاب کیا۔

مقررین نے کہا کہ غزہ اس دور کی کربلا بن چکا ہے، لوگ روزہ ایک دن کا رکھتے ہیں غزہ کے بچے، بوڑھے، خواتین تقریبا ڈیڑھ سال سے زائد روزے کی حالت میں ہیں، روزانہ سینکڑوں افراد جن میں بچوں اور خواتین کی کثیر تعداد شامل ہے، اسرائیلی وحشت اور دہشت گردوں کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں، ہزاروں انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں، دو لاکھ سے زائد زخمی ہیں، امریکہ اور اسرائیل اس دور کے فرعون ہیں، وہ فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مملکت خداداد پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے ویژن کے مطابق اپنے عالمی رول کو ادا کرے اور 51 اسلامی ممالک کی فوج مظلوم فلسطینیوں کا ساتھ دے، امریکہ شیطان بزرگ ہے جو اسرائیل کی مکمل سپورٹ کر رہا ہے، ہمیں بھی ایک مسلمان ہوتے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں کی سپورٹ کرنی چاہیے اور اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے۔

اُنہوں نے مزید کہا کہ عالم اسلام کے عظیم رہنما حضرت امام خمینی کے فرمان کے مطابق پوری دنیا کی طرح کل جمعتہ المبارک فلسطینیوں، یمن، لبنان کے انسانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے بطور یوم القدس منایا جائے گا، اس موقع پر جنوبی پنجاب بھر میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کی جائیں گے، ریلیاں نکالی جائیں کی، جن سے مذہبی رہنما خطاب فرمائیں گے۔ ملتان میں بھی تنظیم آزادی القدس کے زیراہتمام ریلی شاہ یوسف گردیز سے گھنٹہ گھر تک احتجاجی ریلی نکالی جائے گی، جس سے مزہبی جماعتوں کے رہنما ملی یکجہتی کونسل کے عہدیداران خطاب فرمائیں گے۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کرتے ہیں کی مکمل

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم