ہمیں عید کے موقع پر ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا چاہیئے، میئر کراچی
اشاعت کی تاریخ: 30th, March 2025 GMT
بیرسٹر مرتضی وہاب نے اس موقع پر معمولی انتظامی غفلت پر معطل کیے جانے والے ملازمین و افسران کو بحال کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ ان افسران و ملازمین کو بحال کرنے کا مقصد ان کی اور ان کے خاندان کی خوشیوں میں شامل ہونا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہاہے کہ عید مسلمانوں کا سب سے بڑا تہوار ہے، عید کا مقصد ہی تمام مسلمانوں کا مل کر باہمی اتحاد، اخوت، بھائی چارے اور محبت سے منانا ہے، ہمیں عید کے موقع پر ایک دوسرے کی غلطیوں کو درگزر کرنا چاہیئے تاکہ عید کی خوشیاں دوبالا ہوسکیں۔ میئر کراچی بیرسٹر مرتضی وہاب نے اس موقع پر معمولی انتظامی غفلت پر معطل کیے جانے والے ملازمین و افسران کو بحال کرنے کے احکامات جاری کئے۔ انہوں نے کہا کہ ان افسران و ملازمین کو بحال کرنے کا مقصد ان کی اور ان کے خاندان کی خوشیوں میں شامل ہونا ہے۔ میئر کراچی نے توقع ظاہر کی کہ بحال ہونے والے افسران و ملازمین آئندہ محنت، لگن اور توجہ کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں گے۔
بیرسٹر مرتضی وہاب نے یہ بھی ہدایت کی کہ وہ آئندہ انتظامی غفلت نہیں برتیں گے۔ کے ایم سی کے ترجمان نے کہا کہ بحال ہونے والے افسران و ملازمین میں اختیارات سے تجاوز کرنے والے، مالی بے ضابطگی اور سنگین نوعیت کی انتظامی بدعنوانی کرنے والے افسران و ملازمین شامل نہیں ہیں، ایسے افسران جن کے خلاف عدالتی کارروائی، انکوائری جاری ہے یا ان پر الزامات ثابت ہوچکے ہیں بحال ہونے والوں میں شامل نہیں ہوں گے۔ میئر کراچی نے تمام مسلمانوں خصوصاً کراچی کے شہریوں کو عید کی مبارک باد بھی پیش کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: بیرسٹر مرتضی وہاب نے افسران و ملازمین کو بحال کرنے میئر کراچی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔