عید الفطر پر پاکستانی فلم انڈسٹری کی رونقیں دوبارہ بحال، متعدد فلمیں ریلیز
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
کراچی: عید الفطر کے موقع پر پاکستانی فلم انڈسٹری کی رونقیں دوبارہ بحال ہو گئی ہیں، جہاں نئی اور پرانی فلموں کی ریلیز نے سینماؤں میں جوش و خروش بڑھا دیا۔ اس سال پاکستانی، بھارتی، انڈونیشین، جرمن اور ہالی وڈ فلمیں سینماؤں کی زینت بنی ہیں۔
نئی فلموں میں:
قلفی (شہروز سبزواری، سعیدہ امتیاز، بابر علی، جاوید شیخ، معمر رانا)
کبیر (عدنان شاہ ٹیپو، انعم تنویر، سخاوت ناز)
عشق لاہور (جاوید شیخ، صائمہ نور)
لمبی جدائی (بابر علی، حریم فاطمہ)
مارشل آرٹسٹ (شاز خان کی انگریزی فلم، پاکستانی سماج پر مبنی)
پاکستانی فلم سازوں نے جوانی پھر نہیں آنی، جوانی پھر نہیں آنی 2، پنجاب نہیں جاؤں گی، تیری میری کہانیاں اور ٹچ بٹن جیسی ہٹ فلمیں دوبارہ ریلیز کر دی ہیں۔ بھارتی پنجابی فلم کیری آن جٹا 3 اور انڈونیشین فلموں کو بھی اردو میں ڈب کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔
عید کے موقع پر سینماؤں میں رش دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں لوگ اپنی پسندیدہ فلموں کا لطف اٹھا رہے ہیں۔ خاص طور پر پاکستانی ایکشن اور کامیڈی فلمیں شائقین کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہیں۔
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔