عید الفطر، دفاعِ وطن پر مامور جوانوں کے اہلخانہ کے جذبات سے بھرے پیغامات
اشاعت کی تاریخ: 31st, March 2025 GMT
خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد پر تعینات افسران و جوانوں کے اہلخانہ نے وطن عزیز کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حفاظت کا فرض ادا کرنے والوں کو سلام پیش کیا ہے۔ ایک جوان کی اہلیہ نے کہا کہ ہم آپ کو آج کے دن بہت یاد کر رہے ہیں، لیکن خوشی ہے کہ آپ مادرِ وطن کے دفاع میں مصروف ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وطن کی حفاظت کیلئے سرحدوں پر مامور جوانوں کے اہلخانہ نے عید پر اپنے پیاروں کیلئے جذبات سے بھرے پیغامات دیئے ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد پر تعینات افسران و جوانوں کے اہلخانہ نے وطن عزیز کے لئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر حفاظت کا فرض ادا کرنے والوں کو سلام پیش کیا ہے۔ حوالدار شاکر کی اہلیہ نے کہا کہ ہم آپ کو آج کے دن بہت یاد کر رہے ہیں، لیکن خوشی ہے کہ آپ مادرِ وطن کے دفاع میں مصروف ہیں، اسی طرح ان کی بیٹی نے کہا کہ آپ نے آج کے خاص دن اپنے اہل خانہ سے زیادہ ملک کو فوقیت دی، جس پر ہمیں ناز ہے۔
لیفٹیننٹ کرنل شکیل کی بیٹی نے کہا کہ بابا! عید مبارک ہو، ہمیں آپ اور پاک فوج پر فخر ہے، ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ پاک فوج کے ان بہادر سپاہیوں کو عید مبارک، جو آپریشن ایریاز میں بھی ملک کا دفاع کر رہے ہیں، اسی طرح ان کے والد نے کہا کہ میرے دلیر بیٹے اور پاک فوج کے محافظو! آپ کے اہل خانہ ہی نہیں، پوری قوم آپ کے ساتھ ہے۔
لیفٹیننٹ کرنل حسن علی کی والدہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا بیٹا سرحد پر ملک کا دفاع کر رہا ہے، ان کی بیٹی نے کہا کہ میرے بابا خوش نصیب ہیں کہ وہ پاک فوج کے جانبازوں میں شامل ہیں، میں بھی بڑی ہو کر پاکستان آرمی میں شامل ہو کر ملک کا دفاع کروں گی۔ ان کی اہلیہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ میری طرف سے پاک فوج اور میرے شوہر کو عید مبارک، آپ کے بغیر عید نامکمل ہے، مگر ہمیں فخر ہے کہ آپ آج بھی وطن کے دفاع میں مصروف ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جوانوں کے اہلخانہ نے کہا کہ کی اہلیہ پاک فوج
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔